Mahir Bilgrami

ماہر بلگرامی

ماہر بلگرامی کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے

    تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے سر افلاک نیا باب قمر کھولا ہے ڈھل گیا دن بھی وہیں رات نے ڈیرا ڈالا تھک کے رہرو نے جہاں رخت سفر کھولا ہے میرے چپ رہنے پہ بھی بات وہاں تک پہنچی راز دل تو نے مگر دیدۂ تر کھولا ہے ہم کبھی تہہ سے سمندر کے ہیں موتی لائے کبھی پرچم سر مہ سینہ سپر ...

    مزید پڑھیے

    لب نازک پہ جب ہنسی آئی

    لب نازک پہ جب ہنسی آئی آگ ہر سو بکھیرتی آئی جانے کیا بیٹھے بیٹھے یاد آیا رخ عاشق پہ تازگی آئی شام غم درد دل بڑھانے کو چاند کے ساتھ چاندنی آئی آ گئے یاد غم زمانے کے کبھی بھولے سے جو ہنسی آئی بن گئی جان پر محبت میں دوستی بن کے دشمنی آئی لذت ظلم کے ہیں سب مداح راس ان کو ستم گری ...

    مزید پڑھیے

    کچھ شمع سے پوچھو نہ شب تار سے پوچھو

    کچھ شمع سے پوچھو نہ شب تار سے پوچھو کیا ہجر میں بیتی یہ دل زار سے پوچھو سوسن سے نہ کچھ نرگس بیمار سے پوچھو تاراجیٔ گلشن کا سبب خار سے پوچھو زحمت نہ دو ایسے میں نہ بیمار سے پوچھو کیا حال ہے یہ نبض کی رفتار سے پوچھو کیوں دست حنائی دل آزار سے پوچھو رنگ گل لالہ لب و رخسار سے ...

    مزید پڑھیے

    منفرد تو ہے ترا کوئی مقابل نہ ہوا

    منفرد تو ہے ترا کوئی مقابل نہ ہوا کوئی مخلوق بھی کونین میں کامل نہ ہوا اک تماشا وہ بھی دیدار کے قابل نہ ہوا رقص بسمل جو سر کوچۂ قاتل نہ ہوا دل جو قربانیٔ پروانہ کا حامل نہ ہوا درخور انجمن شمع شمائل نہ ہوا کون ہے تیری عنایت کا جو قائل نہ ہوا کس کے دکھ سکھ میں تو وقت آنے پہ شامل نہ ...

    مزید پڑھیے

    لطف حیات نو ہے ہر اک انقلاب میں

    لطف حیات نو ہے ہر اک انقلاب میں ہیں اصل زندگی کے مزے پیچ و تاب میں یوں تو بہت سی باتیں ہیں دل کی کتاب میں لیکن ہے غم کا تذکرہ ہر ایک باب میں لگ جائیں چار چاند ابھی آفتاب میں تحلیل کر کے دیکھے تو کوئی گلاب میں اف یہ عتاب پہلے ہی خط کے جواب میں دھوکا مجھے ضرور ہوا انتخاب میں پھر ...

    مزید پڑھیے

تمام