جو بظاہر سحر آثار نظر آتے ہیں
جو بظاہر سحر آثار نظر آتے ہیں وہ بھی اندر سے شب تار نظر آتے ہیں کیجیے کس سے یہاں قدر ہنر کی امید اب وہ دربار نہ در بار نظر آتے ہیں کم سے کم اپنے گریباں ہی کے پرزے کرتے ہاتھ پر ہاتھ دھرے یار نظر آتے ہیں شہر در شہر مکانوں میں اندھیرا ہے مگر جگمگاتے ہوئے بازار نظر آتے ہیں کون آواز ...