آپ نور افشاں ہیں رات کے اندھیرے میں
آپ نور افشاں ہیں رات کے اندھیرے میں یا ستارے رقصاں ہیں رات کے اندھیرے میں ایک دن وہ ذروں کو آفتاب کر لیں گے دھوپ کے جو خواہاں ہیں رات کے اندھیرے میں کیوں نہیں جلا لیتے آنسوؤں کی قندیلیں لوگ کیوں ہراساں ہیں رات کے اندھیرے میں خوفناک آوازیں وحشیوں کے ہنگامے رونق بیاباں ہیں رات ...