Mahfuzur Rahman Adil

محفوظ الرحمان عادل

محفوظ الرحمان عادل کی غزل

    آپ نور افشاں ہیں رات کے اندھیرے میں

    آپ نور افشاں ہیں رات کے اندھیرے میں یا ستارے رقصاں ہیں رات کے اندھیرے میں ایک دن وہ ذروں کو آفتاب کر لیں گے دھوپ کے جو خواہاں ہیں رات کے اندھیرے میں کیوں نہیں جلا لیتے آنسوؤں کی قندیلیں لوگ کیوں ہراساں ہیں رات کے اندھیرے میں خوفناک آوازیں وحشیوں کے ہنگامے رونق بیاباں ہیں رات ...

    مزید پڑھیے