Mahesh Janib

مہیش جانب

  • 1952

مہیش جانب کی غزل

    احمق نہیں کہ سمجھیں برا وقت ٹل گیا

    احمق نہیں کہ سمجھیں برا وقت ٹل گیا کچھ روز کے لیے جو یہ موسم بدل گیا یک لخت ہنستے لوگ یہ برہم کیوں ہو گئے شاید مری زبان سے کچھ سچ نکل گیا راضی تھے ہم تو جان بھی دینے کے واسطے کم ظرف لے کے دل ہی ہمارا مچل گیا کیا بولنے کے حک کا اٹھائے گا فائدہ جو بھوک میں زبان ہی اپنی نگل ...

    مزید پڑھیے

    ہو رہا ہے کیا جہاں میں اک نظر مت دیکھیے

    ہو رہا ہے کیا جہاں میں اک نظر مت دیکھیے پہلے پنے پر ہے جو بس وہ خبر مت دیکھیے دنیا کو تبدیل کرنے کے ہیں اس میں خواب بس انقلابی ہوں مرا رخت سفر مت دیکھیے پیار سے بگڑے بھی ہیں کچھ لوگ یہ مانا مگر ہو دوا لازم تو اس کے بد اثر مت دیکھیے کیا اجڑتا جا رہا ہے اس پہ بھی رکھیں نظر صرف بستے ...

    مزید پڑھیے

    مقرر وقت سے پہلے سمجھ داری نہیں آتی

    مقرر وقت سے پہلے سمجھ داری نہیں آتی نہ آنی ہو کسی کو گر تو فن کاری نہیں آتی جھکانا سیکھنا پڑتا ہے سر لوگوں کے قدموں میں یوں ہی جمہوریت میں ہاتھ سرداری نہیں آتی چلاتے ہیں اگر تلوار یہ تو کیا تعجب ہے کریں گے اور کیا جن کو قلم‌ کاری نہیں آتی سیاسی آندھیوں سے آگ لگنی غیر ممکن ...

    مزید پڑھیے

    تقسیم تم مطابق محنت نہ کر سکے

    تقسیم تم مطابق محنت نہ کر سکے تسلیم ہم مطابق‌ قسمت نہ کر سکے جن کو تلاش منزل انسانیت کی تھی گمراہ ان کو اہل سیاست نہ کر سکے تجھ پے کہ جوٹھے ہیں یہ سبھی لفظ خلق کے ہم فاش اپنی پاک محبت نہ کر سکے ہم آریوں سے انکو بچاتے رہے مگر وہ آندھیوں سے اپنی حفاظت نہ کر سکے اک لو ہوئے خیال تو ...

    مزید پڑھیے

    دل ٹوٹنے کا بند یہ رنج و ملال کر

    دل ٹوٹنے کا بند یہ رنج و ملال کر اب پھینکنا یہ کانچ کہاں ہے خیال کر مصروف ڈھونڈنے میں ہے کوئی شکار کو بیٹھا ہے کوئی اپنا یہاں جال ڈال کر جس آدمی کو زہر بھی پچتا تھا اے طبیب پینے لگا ہے آج وہ پانی ابال کر ناسور ہو گیا تھا یہ ناقابل رفو دل پھینکنا پڑا ہمیں آخر نکال کر ایمان کو ...

    مزید پڑھیے