احمق نہیں کہ سمجھیں برا وقت ٹل گیا
احمق نہیں کہ سمجھیں برا وقت ٹل گیا کچھ روز کے لیے جو یہ موسم بدل گیا یک لخت ہنستے لوگ یہ برہم کیوں ہو گئے شاید مری زبان سے کچھ سچ نکل گیا راضی تھے ہم تو جان بھی دینے کے واسطے کم ظرف لے کے دل ہی ہمارا مچل گیا کیا بولنے کے حک کا اٹھائے گا فائدہ جو بھوک میں زبان ہی اپنی نگل ...