Mahaveer Uttaranchali

مہاویر اترانچلی

مہاویر اترانچلی کی غزل

    غریبوں کو فقط اپدیش کی گھٹی پلاتے ہو

    غریبوں کو فقط اپدیش کی گھٹی پلاتے ہو بڑے آرام سے تم چین کی بنسی بجاتے ہو ہے مشکل دور سوکھی روٹیاں بھی دور ہیں ہم سے مزے سے تم کبھی کاجو کبھی کشمش چباتے ہو نظر آتی نہیں مفلس کی آنکھوں میں تو خوشحالی کہاں تم رات دن جھوٹھے انہیں سپنے دکھاتے ہو اندھیرا کر کے بیٹھے ہو ہماری زندگانی ...

    مزید پڑھیے

    کاش ہوتا مزہ کہانی میں

    کاش ہوتا مزہ کہانی میں دل مرا بجھ گیا جوانی میں ان کی الفت میں یے ملا ہم کو زخم پائے ہیں بس نشانی میں آؤ دکھلائیں ایک انہونی آگ لگتی ہے کیسے پانی میں تم رہے پاک صاف دل ہر دم میں رہا صرف بد گمانی میں

    مزید پڑھیے

    بڑی تکلیف دیتے ہیں یہ رشتے

    بڑی تکلیف دیتے ہیں یہ رشتے یہی اپہار دیتے روز اپنے زمیں سے آسماں تک پھیل جائیں دھنک میں خواہشوں کے رنگ بکھرے نہیں ٹوٹے کبھی جو مشکلوں سے بہت خوددار ہم نے لوگ دیکھے یہ کڑوا سچ ہے یاروں مفلسی کا یہاں ہر آنکھ میں ہیں ٹوٹے سپنے کہاں لے جائے گا مجھ کو زمانہ بڑی الجھن ہے کوئی حل تو ...

    مزید پڑھیے

    تیر و تلوار سے نہیں ہوتا

    تیر و تلوار سے نہیں ہوتا کام ہتھیار سے نہیں ہوتا گھاؤ بھرتا ہے دھیرے دھیرے ہی کچھ بھی رفتار سے نہیں ہوتا کھیل میں بھاونا ہے زندہ تو فرق کچھ ہار سے نہیں ہوتا صرف نقصان ہوتا ہے یارو لابھ تکرار سے نہیں ہوتا اس پہ کل روٹیاں لپیٹے سب کچھ بھی اخبار سے نہیں ہوتا

    مزید پڑھیے