کاش ہوتا مزہ کہانی میں مہاویر اترانچلی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں کاش ہوتا مزہ کہانی میں دل مرا بجھ گیا جوانی میں ان کی الفت میں یے ملا ہم کو زخم پائے ہیں بس نشانی میں آؤ دکھلائیں ایک انہونی آگ لگتی ہے کیسے پانی میں تم رہے پاک صاف دل ہر دم میں رہا صرف بد گمانی میں