یادوں سے خالی دل کی یہ کن وادیوں کے بیچ
یادوں سے خالی دل کی یہ کن وادیوں کے بیچ تنہا کھڑی ہوئی ہوں میں تنہائیوں کے بیچ ہونٹوں پہ میرے حرف شکایت کہاں رہا حیران ہو رہی ہوں میں خاموشیوں کے بیچ بچوں نے اس کے رنگ بھرے پر کتر دئے تتلی اک اڑ رہی تھی جو رعنائیوں کے بیچ مشکل لگی جو زیست گزارے چلے گئے دامن خرد کا تھام کے ...