Madhuvan Rishi Raj

مدھون رشی راج

مدھون رشی راج کی غزل

    دل کو خود دل بر سے خطرہ

    دل کو خود دل بر سے خطرہ گھر کو اب ہے گھر سے خطرہ سر زبان کے خطرے میں تھا اب زبان کو سر سے خطرہ راہ میں کھو جانا ہے بہتر راہی کو رہبر سے خطرہ رات کو سونا دیکھ بھال کے چادر سے بستر سے خطرہ یارو دشمن قاتل سارے نیچے اور اوپر سے خطرہ گھر جائیں یا باہر گھومیں اندر سے باہر سے ...

    مزید پڑھیے

    خوابوں میں مصروف ہے تو پر میری یہ بیداری دیکھ

    خوابوں میں مصروف ہے تو پر میری یہ بیداری دیکھ میری راتوں کی سیاہی میں رنگ خوں کو طاری دیکھ دیکھ تو میری غربت کو اور میری مردہ آنکھوں کو میری مردہ آنکھوں سے تو اب بھی آنسو جاری دیکھ تجھ کو دینے کو ہے میرے پاس بتا کیا کچھ بھی نہیں تجھ سے باتیں تیری یادیں میری دولت ساری دیکھ میری ...

    مزید پڑھیے

    کھلی لاشوں کا قبرستان بن کے

    کھلی لاشوں کا قبرستان بن کے بہت چپ ہے زمیں ویران بن کے شریک مجلس درویش ہو کر ترے در جائیں گے میہمان بن کے ہے یہ خوں کی ندی تخلیق تیری کہاں تو چل دیا انجان بن کے یہاں پر آگ ہے میری لگائی کہ ہوں شرمندہ میں انسان بن کے

    مزید پڑھیے

    قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہے

    قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہے جہاں جاتا ہے خوں کا اک سمندر چھوڑ جاتا ہے محبت تیری گزرے ہے میرے دل سے مرے قاتل کہ جیسے لوٹ کر شہروں کو لشکر چھوڑ جاتا ہے تری یادوں کو میں لے کر کہیں بھی ساتھ جاتا ہوں کہ کاسہ اپنا کب درویش گھر پر چھوڑ جاتا ہے یہ میرے عشق کی دولت ہے اونچی ...

    مزید پڑھیے

    میری اس دیوانگی کی اپنی اک رفتار ہے

    میری اس دیوانگی کی اپنی اک رفتار ہے عشق میں ہر آدمی کی اپنی اک رفتار ہے کوئی عاشق کوئی میکش کوئی کوئی مفلس ہے یہاں ہر کسی کی خودکشی کی اپنی اک رفتار ہے آپ آگے ہم ہیں پیچھے پر نہیں ہم کو گلہ ہر کسی کی زندگی کی اپنی اک رفتار ہے کون ڈھونڈھے دوست پھر سے کون پھر سے کھائے زخم ہر کسی کی ...

    مزید پڑھیے

    مرا ماضی ہے اک ہتھیار میرا

    مرا ماضی ہے اک ہتھیار میرا طماچہ موت کا ہر وار میرا زمانہ کو بدلنے کے لئے بس ہے بس کافی دل بیمار میرا ضرورت تیری ہوگی جس کو ہوگی مجھے کافی ہے یہ انگار میرا یہ میری باتیں ہنسنے کو نہیں ہیں کہ ہر اک لفظ ہے مختار میرا چلا کے اس کو مجھ پہ دیکھ لے کیا بگاڑے گی تری تلوار میرا

    مزید پڑھیے

    قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہے

    قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہے جہاں جاتا ہے خوں کا اک سمندر چھوڑ جاتا ہے محبت تیری گزرے ہے مرے دل سے مرے قاتل کہ جیسے لوٹ کر شہروں کو لشکر چھوڑ جاتا ہے یہ میرے عشق کی دولت ہے اونچی قصر سلطاں سے جو اپنی ساری دولت کو یہیں پر چھوڑ جاتا ہے

    مزید پڑھیے