قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہے
قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہے
جہاں جاتا ہے خوں کا اک سمندر چھوڑ جاتا ہے
محبت تیری گزرے ہے مرے دل سے مرے قاتل
کہ جیسے لوٹ کر شہروں کو لشکر چھوڑ جاتا ہے
یہ میرے عشق کی دولت ہے اونچی قصر سلطاں سے
جو اپنی ساری دولت کو یہیں پر چھوڑ جاتا ہے