Madan Mohan Danish

مدن موہن دانش

مدن موہن دانش کی غزل

    کچھ اس مقام سے اب دل کا کارواں گزرے

    کچھ اس مقام سے اب دل کا کارواں گزرے یقیں کی حد سے جو گزرے تو بے زباں گزرے یہ اتفاق کہاں ہے کہ آنکھ بھر آئی محبتوں میں کوئی کیسے بے نشاں گزرے مجھی سے ہو کے گزرتی ہے راہ دنیا کی سو مجھ سے ہو کے زمیں اور آسماں گزرے تعلقات میں وہ مرحلے بھی کیسے تھے یقین اور گماں کے جو درمیاں ...

    مزید پڑھیے

    ہر ایک لمحہ مری آگ میں گزارے کوئی

    ہر ایک لمحہ مری آگ میں گزارے کوئی پھر اس کے بعد مجھے عشق میں اتارے کوئی میں اپنی گونج کو محسوس کرنا چاہتا ہوں اتر کے مجھ میں مجھے زور سے پکارے کوئی اب آرزو ہے وہ ہر شے میں جگمگانے لگے بس ایک چہرہ میں کب تک اسے نہارے کوئی فلک پہ چاند ستارے ٹنگے ہیں صدیوں سے میں چاہتا ہوں زمیں پر ...

    مزید پڑھیے

    ضدوں کو اپنی تراشو اور ان کو خواب کرو

    ضدوں کو اپنی تراشو اور ان کو خواب کرو پھر اس کے بعد ہی منزل کا انتخاب کرو محبتوں میں نئے قرض چڑھتے رہتے ہیں مگر یہ کس نے کہا ہے کبھی حساب کرو تمہیں یہ دنیا کبھی پھول تو نہیں دے گی ملے ہیں کانٹے تو کانٹوں کو ہی گلاب کرو سیاہ راتو چمکتی نہیں ہے یوں تقدیر اٹھاؤ اپنے چراغوں کو ...

    مزید پڑھیے

    کوئی یہ لاکھ کہے میرے بنانے سے ملا

    کوئی یہ لاکھ کہے میرے بنانے سے ملا ہر نیا رنگ زمانہ کو پرانے سے ملا فکر ہر بار خموشی سے ملی ہے مجھ کو اور زمانہ یہ مجھے شور مچانے سے ملا اس کی تقدیر اندھیروں نے لکھی تھی شاید وہ اجالا جو چراغوں کو بجھانے سے ملا پوچھتے کیا ہو ملا کیسے یہ جنگل کو طلسم چھاؤں میں دھوپ کی رنگت کو ...

    مزید پڑھیے

    اور کیا آخر تجھے اے زندگانی چاہیئے

    اور کیا آخر تجھے اے زندگانی چاہیئے آرزو کل آگ کی تھی آج پانی چاہیئے یہ کہاں کی ریت ہے جاگے کوئی سوئے کوئی رات سب کی ہے تو سب کو نیند آنی چاہیئے اس کو ہنسنے کے لئے تو اس کو رونے کے لئے وقت کی جھولی سے سب کو اک کہانی چاہیئے کیوں ضروری ہے کسی کے پیچھے پیچھے ہم چلیں جب سفر اپنا ہے تو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2