Madan Mohan Danish

مدن موہن دانش

مدن موہن دانش کی غزل

    یہ مانا نیندوں سے اکثر فریب کھاتے رہے

    یہ مانا نیندوں سے اکثر فریب کھاتے رہے ہمارے خواب مگر پھر بھی جگمگاتے رہے وہ سادہ لوگ کہیں اب نظر نہیں آتے جو دوسروں کے لئے راستہ بناتے رہے کئی ستارہ جنہیں آسماں ستاتا رہا انہیں زمین پہ لا کر ہمیں سجاتے رہے ہمیں نے لمحوں کو یکجا کیا تو رات ہوئی ہمیں بکھیر کر لمحوں کو دن بناتے ...

    مزید پڑھیے

    آدھی آگ اور آدھا پانی ہم دونوں

    آدھی آگ اور آدھا پانی ہم دونوں جلتی بجھتی ایک کہانی ہم دونوں مندر مسجد گرجا گھر اور گرودوارہ لفظ کئی ہیں ایک معانی ہم دونوں روپ بدل کر نام بدل کر آتے ہیں فانی ہو کر بھی لا فانی ہم دونوں گیانی دھیانی چتر سیانی دنیا میں جیتے ہیں اپنی نادانی ہم دونوں آدھا آدھا بانٹ کے جیتے رہتے ...

    مزید پڑھیے

    ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیں

    ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیں مگر اس میں زمانے لگ گئے ہیں کسی کی تربیت کا ہے کرشمہ یہ آنسو مسکرانے لگ گئے ہیں کہانی رخ بدلنا چاہتی ہے نئے کردار آنے لگ گئے ہیں یہ حاصل ہے مری خاموشیوں کا کہ پتھر آزمانے لگ گئے ہیں یہ ممکن ہے کسی دن تم بھی آؤ پرندے آنے جانے لگ گئے ہیں جنہیں ہم ...

    مزید پڑھیے

    دے سکو تو زندگانی دو مجھے

    دے سکو تو زندگانی دو مجھے لفظ تو میں ہوں معانی دو مجھے کھو نہ جائے مجھ میں اک بچہ ہے جو یوں کرو کوئی کہانی دو مجھے ہم زباں میرا یہاں کوئی نہیں لاؤ اپنی بے زبانی دو مجھے ہے ہوا درکار میری آگ کو کب کہا اس نے کہ پانی دو مجھے ایک منزل نے تو دانشؔ یہ کہا راستوں کی کچھ نشانی دو مجھے

    مزید پڑھیے

    رنگ دنیا کتنا گہرا ہو گیا

    رنگ دنیا کتنا گہرا ہو گیا آدمی کا رنگ پھیکا ہو گیا رات کیا ہوتی ہے ہم سے پوچھئے آپ تو سوئے سویرا ہو گیا ڈوبنے کی ضد پہ کشتی آ گئی بس یہیں مجبور دریا ہو گیا آج خود کو بیچنے نکلے تھے ہم آج ہی بازار مندہ ہو گیا غم اندھیرے کا نہیں دانشؔ مگر وقت سے پہلے اندھیرا ہو گیا

    مزید پڑھیے

    چلتے رہنے کے لیے دل میں گماں کوئی تو ہو

    چلتے رہنے کے لیے دل میں گماں کوئی تو ہو بے نتیجہ ہی سہی پر امتحاں کوئی تو ہو آسمانوں کے ستم سہتی ہیں اس کے باوجود سب زمینیں چاہتی ہیں آسماں کوئی تو ہو مہربانوں ہی سے بچ کر آئے تھے تم دشت میں اب یہاں بھی لگ رہا ہے مہرباں کوئی تو ہو قہقہوں کو یاد رکھتی ہی نہیں دنیا کبھی اس لیے دکھ ...

    مزید پڑھیے

    ہے انتظار مقدر تو انتظار کرو

    ہے انتظار مقدر تو انتظار کرو پر اپنے دل کی فضا کو بھی خوش گوار کرو تمہارے پیچھے لگی ہیں اداسیاں کب سے کسی پڑاؤ پر رک کر انہیں شکار کرو ہمارے خوابوں کا در کھٹکھٹاتی رہتی ہیں تم اپنی یادوں کو سمجھاؤ ہشیار کرو بھلی لگے گی یہی زندگی اگر اس میں خیال و خواب کی دنیا کو بھی شمار ...

    مزید پڑھیے

    ستارے جن کی بہت دیکھ بھال کرتے رہے

    ستارے جن کی بہت دیکھ بھال کرتے رہے ہم ایسی ساری شبوں کو نہال کرتے رہے ہمارے راہنما بھی کمال کرتے رہے جواب دینا تھا ان کو سوال کرتے رہے مگر ندی نے سنی ہی نہیں کناروں کی یہ اور بات کہ وہ عرض حال کرتے رہے تمام رات مری نیند مجھ کو ڈستی رہی تمام خواب مری دیکھ بھال کرتے رہے تمام عمر ...

    مزید پڑھیے

    یہ مانا اس طرف رستہ نہ جائے

    یہ مانا اس طرف رستہ نہ جائے مگر پھر بھی مجھے روکا نہ جائے بدل سکتی ہے رخ تصویر اپنا کچھ اتنے غور سے دیکھا نہ جائے الجھنے کے لئے سو الجھنیں ہیں بس اپنے آپ سے الجھا نہ جائے ارادہ واپسی کا ہو اگر تو بہت گہرائی میں اترا نہ جائے ہماری ارض بس اتنی ہے دانشؔ اداسی کا سبب پوچھا نہ ...

    مزید پڑھیے

    تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے

    تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے کیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتے سجائے پھرتے ہو محفل نہ جانے کس کس کی کبھی پرندوں کو مہمان کیوں نہیں کرتے وہ دیکھتے ہی نہیں جو ہے منظروں سے الگ کبھی نگاہ کو حیران کیوں نہیں کرتے پرانی سمتوں میں چلنے کی سب کو عادت ہے نئی دشاؤں کا وہ دھیان ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2