سر پہ سجنے کو جو تیار ہے میرے اندر
سر پہ سجنے کو جو تیار ہے میرے اندر گرد آلود سی دستار ہے میرے اندر جس کے مر جانے کا احساس بنا رہتا ہے مجھ سے بڑھ کر کوئی بیمار ہے میرے اندر روز اشکوں کی نئی فصل اگا دیتا ہے ایک بوڑھا سا زمیندار ہے میرے اندر کتنا گھنگھور اندھیرا ہے مری رگ رگ میں اس قدر روشنی درکار ہے میرے اندر دب ...