Liaqat Jafri

لیاقت جعفری

لیاقت جعفری کی غزل

    خامشی کو صدا میں رکھا گیا

    خامشی کو صدا میں رکھا گیا ایک جادو ہوا میں رکھا گیا چاک جاں سے اتار کر کوزہ صحن آب و ہوا میں رکھا گیا پھر مرتب کیے گئے جذبات عشق کو ابتدا میں رکھا گیا سنگ بنیاد تھی خلاؤں کی ایک پتھر ہوا میں رکھا گیا ایک کونپل سجائی اچکن پر ایک خنجر قبا میں رکھا گیا ایک دریا اٹھا کے لایا ...

    مزید پڑھیے

    مسلم ہوں پر خود پہ قابو رہتا ہے

    مسلم ہوں پر خود پہ قابو رہتا ہے میرے اندر بھی اک ہندو رہتا ہے کوئی جادوگر کے بازو کاٹ بھی دے اس کے ہاتھ میں پھر بھی جادو رہتا ہے رات گئے تک بچے دوڑتے رہتے ہیں میرے کمرے میں اک جگنو رہتا ہے میرؔ کا دوانا غالبؔ کا شیدائی میری بستی میں اک سادھو رہتا ہے اس کے لبوں پر انگلش ونگلش ...

    مزید پڑھیے

    کوئی سمجھاؤ دریا کی روانی کاٹتی ہے

    کوئی سمجھاؤ دریا کی روانی کاٹتی ہے کہ میرے سانس کو تشنہ دہانی کاٹتی ہے میں باہر تو بہت اچھا ہوں پر اندر ہی اندر مجھے کوئی بلائے ناگہانی کاٹتی ہے میں دریا ہوں مگر کتنا ستایا جا رہا ہوں کہ بستی روز آ کے میرا پانی کاٹتی ہے زمیں پر ہوں مگر کٹ کٹ کے گرتا جا رہا ہوں مسلسل اک نگاہ ...

    مزید پڑھیے

    کسی گرداب کی پھینکی پڑی ہے

    کسی گرداب کی پھینکی پڑی ہے لب ساحل جو اک کشتی پڑی ہے حقیقت میں وہی سیدھی پڑی ہے مجھے اک چال جو الٹی پڑی ہے سفر الجھا دئے ہیں اس نے سارے مرے پیروں میں جو تیزی پڑی ہے وہ ہنگامہ گزر جاتا ادھر سے مگر رستے میں خاموشی پڑی ہے مرے کانوں کی زد پر ہیں مناظر مری آنکھوں میں سرگوشی پڑی ...

    مزید پڑھیے

    رونق دامن صد چاک کہاں سے لائیں

    رونق دامن صد چاک کہاں سے لائیں شہر میں دشت کی پوشاک کہاں سے لائیں حالت جذب میں ادراک کہاں سے لائیں زہر کے واسطے تریاک کہاں سے لائیں گرد ہائے خس و خاشاک کہاں سے لائیں اس قدر گردش افلاک کہاں سے لائیں پانی لے آئے ہیں اب ایک نئی الجھن ہے کوزہ گر تیرے لیے خاک کہاں سے لائیں چہرہ ...

    مزید پڑھیے

    تمہیں اب اس سے زیادہ سزا نہیں دوں گا

    تمہیں اب اس سے زیادہ سزا نہیں دوں گا دعائیں دوں گا مگر بد دعا نہیں دوں گا تری طرف سے لڑوں گا میں تیری ہر اک جنگ رہوں گا ساتھ مگر حوصلہ نہیں دوں گا تری زبان پہ موقوف میرے ہاتھ کا لمس نوالہ دوں گا مگر ذائقہ نہیں دوں گا میں پہلے بوسہ سے نا آشنا رکھوں گا تمہیں پھر اس کے بعد تمہیں ...

    مزید پڑھیے

    اسی کے دم پہ تو یہ دوستی بچی ہوئی تھی

    اسی کے دم پہ تو یہ دوستی بچی ہوئی تھی ہمارے بیچ میں جو ہم سری بچی ہوئی تھی ہمارے بیچ میں اک پختگی بچی ہوئی تھی بچی ہوئی تھی مگر عارضی بچی ہوئی تھی اسی کے نور سے یہ روشنی بچی ہوئی تھی مرے نصیب میں جو تیرگی بچی ہوئی تھی اسی کے دم پہ منایا تھا اس نے جشن مرا کہ دشمنی میں بھی جو دوستی ...

    مزید پڑھیے

    لفظ کو الہام معنی کو شرر سمجھا تھا میں

    لفظ کو الہام معنی کو شرر سمجھا تھا میں درحقیقت عیب تھا جس کو ہنر سمجھا تھا میں روشنی تھی آنکھ تھی منظر تھا پھر کچھ بھی نہ تھا ہائے کس آشوب کو اپنی نظر سمجھا تھا میں آسمانوں کو لپکتے ہیں زمیں زادے سبھی مرغ آدم زاد کو بے بال و پر سمجھا تھا میں ''کن'' کا افسون ازل پھونکا گیا تھا جس ...

    مزید پڑھیے

    مرے وجود ابھی ناتواں نہیں ہونا

    مرے وجود ابھی ناتواں نہیں ہونا پھر اس کے بعد یہ موسم جواں نہیں ہونا کسے خبر تھی کہ محشر کا ہوگا یہ بھی رنگ زمیں کا ہونا مگر آسماں نہیں ہونا ہمیں خبر ہے کہ وحشت ٹھکانے لگنی ہے ہمارا جوش ابھی رائیگاں نہیں ہونا وجود اپنا ہے اور آپ طے کریں گے ہم کہاں پہ ہونا ہے ہم کو کہاں نہیں ...

    مزید پڑھیے

    حالانکہ پہلے دن سے کہا جا رہا ہوں میں

    حالانکہ پہلے دن سے کہا جا رہا ہوں میں لیکن کہاں کسی کو سنا جا رہا ہوں میں لاچار و بد حواس گھنے جنگلوں کے بیچ دریا کے ساتھ ساتھ چلا جا رہا ہوں میں پچھتا رہے ہیں سب مرا پنجر نکال کر دیوار میں دوبارہ چنا جا رہا ہوں میں حالانکہ پہلے سائے سے رہتی تھی کشمکش اب اپنے بوجھ سے ہی دبا جا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2