Lateef Farooqi

لطیف فاروقی

لطیف فاروقی کی نظم

    امرود اور ملا جی

    کسی قصبے میں ایک تھا امرود بیسوں میں وہ نیک تھا امرود پڑھنے جاتا تھا وہ نماز وہاں آدمی اک نظر نہ آئے جہاں خوف اس کو ہمیشہ رہتا تھا آدمی کوئی مجھ کو کھا لے گا شوق بولا کہ ایک دن جاؤ کسی مسجد میں جا نماز پڑھو چھوٹی سی مسجد اک قریب ہی تھی تھے وہاں ڈٹ کے بیٹھے ملا جی چپکے چپکے خدا کی لے ...

    مزید پڑھیے

    چلو بھیا تم کو بناؤں میں گھوڑا

    چلو بھیا تم کو بناؤں میں گھوڑا بنوگے جو گھوڑا تو ماروں گی کوڑا نہ آئے گی لیکن ذرا چوٹ تم کو سلا دوں گی پیارا سا اک کوٹ تم کو چلو گے شپا شپ تو دوں گی میں چارا رکو گے تو کھاؤ گے چانٹا کرارا یہ چانٹا نہ ہوگا مگر مار کوئی سمجھ لو کہ جیسے کرے پیار کوئی تمہارے لیے میں نے گاڑی بنائی ہر اک ...

    مزید پڑھیے

    بچوں کی باتیں

    آئے ہیں آسمان پر بادل چھائے ہیں آسمان پر بادل ابر ہی ابر دیکھتے ہیں ہم ہے برسنے کو جو ابھی چھم چھم اور معلوم ایسا ہوتا ہے چھپ کے خورشید جیسے سوتا ہے گھر کے کوٹھے پہ ایک دو بچے چارپائی پہ ہیں ڈٹے بیٹھے بولیاں بھانت بھانت ہیں ان کی میٹھی میٹھی ہیں بھولی بھالی سی ایک بولا کہ جانتے ...

    مزید پڑھیے