امرود اور ملا جی
کسی قصبے میں ایک تھا امرود بیسوں میں وہ نیک تھا امرود پڑھنے جاتا تھا وہ نماز وہاں آدمی اک نظر نہ آئے جہاں خوف اس کو ہمیشہ رہتا تھا آدمی کوئی مجھ کو کھا لے گا شوق بولا کہ ایک دن جاؤ کسی مسجد میں جا نماز پڑھو چھوٹی سی مسجد اک قریب ہی تھی تھے وہاں ڈٹ کے بیٹھے ملا جی چپکے چپکے خدا کی لے ...