یادوں کا لمس
نہیں تنہا نہیں ہوں میں تمہارے سحر کے دھاگوں نے میرے جسم و جاں کو باندھ رکھا ہے حسیں یادوں کا شیریں لمس میری روح کو چھو کر مری آنکھوں سے بہتا ہے تم اپنی انگلیوں کی نرم پوروں سے مرے ہاتھوں کو چھوتے ہو بہت دھیرے سے تم اپنے دہکتے لب مرے گالوں پہ رکھ کر آنسوؤں کو پونچھ دیتے ہو میں اپنی ...