Laiq Akbar sahaab

لئیق اکبر سحاب

لئیق اکبر سحاب کی غزل

    ان کے رخ پر حجاب رہتا ہے

    ان کے رخ پر حجاب رہتا ہے جیسے مہ پر سحاب رہتا ہے وصل کا جب سوال ہو ان سے بس ''نہیں'' میں جواب رہتا ہے پاس رہ کر بھی درمیاں اپنے فاصلہ بے حساب رہتا ہے حسن والوں سے جو وفا چاہے اس کا خانہ خراب رہتا ہے ہم سفر سوہنی سی ہو کوئی میرے خوں میں چناب رہتا ہے مثل طائر ہوا میں اڑتا ہوں میری ...

    مزید پڑھیے

    دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا

    دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا ہاتھ دشمن سے جا ملایا تھا آستینوں میں سانپ پالے تھے دودھ خود ہی انہیں پلایا تھا زخم کاری بہت لگا دل پر تیر اپنوں نے اک چلایا تھا برق مانگی نہیں فلک تجھ سے ہم نے خرمن کو خود جلایا تھا دل کو زخموں سے چور ہونا تھا عشق کی راہ پر چلایا تھا پوچھتے ہو ...

    مزید پڑھیے

    دیکھا اسے، قمر مجھے اچھا نہیں لگا

    دیکھا اسے، قمر مجھے اچھا نہیں لگا چھو کر اسے، گہر مجھے اچھا نہیں لگا چاہا اسے تو یوں کہ نہ چاہا کسی کو پھر کوئی بھی عمر بھر مجھے اچھا نہیں لگا آئینہ دل کا توڑ کے کہتا ہے سنگ زن دل تیرا توڑ کر مجھے اچھا نہیں لگا دل سے مرے یہ کہہ کے ستم گر نکل گیا دل ہے ترا کھنڈر مجھے اچھا نہیں ...

    مزید پڑھیے