Laiq Akbar sahaab

لئیق اکبر سحاب

لئیق اکبر سحاب کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    ان کے رخ پر حجاب رہتا ہے

    ان کے رخ پر حجاب رہتا ہے جیسے مہ پر سحاب رہتا ہے وصل کا جب سوال ہو ان سے بس ''نہیں'' میں جواب رہتا ہے پاس رہ کر بھی درمیاں اپنے فاصلہ بے حساب رہتا ہے حسن والوں سے جو وفا چاہے اس کا خانہ خراب رہتا ہے ہم سفر سوہنی سی ہو کوئی میرے خوں میں چناب رہتا ہے مثل طائر ہوا میں اڑتا ہوں میری ...

    مزید پڑھیے

    دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا

    دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا ہاتھ دشمن سے جا ملایا تھا آستینوں میں سانپ پالے تھے دودھ خود ہی انہیں پلایا تھا زخم کاری بہت لگا دل پر تیر اپنوں نے اک چلایا تھا برق مانگی نہیں فلک تجھ سے ہم نے خرمن کو خود جلایا تھا دل کو زخموں سے چور ہونا تھا عشق کی راہ پر چلایا تھا پوچھتے ہو ...

    مزید پڑھیے

    دیکھا اسے، قمر مجھے اچھا نہیں لگا

    دیکھا اسے، قمر مجھے اچھا نہیں لگا چھو کر اسے، گہر مجھے اچھا نہیں لگا چاہا اسے تو یوں کہ نہ چاہا کسی کو پھر کوئی بھی عمر بھر مجھے اچھا نہیں لگا آئینہ دل کا توڑ کے کہتا ہے سنگ زن دل تیرا توڑ کر مجھے اچھا نہیں لگا دل سے مرے یہ کہہ کے ستم گر نکل گیا دل ہے ترا کھنڈر مجھے اچھا نہیں ...

    مزید پڑھیے

1 نظم (Nazm)

    یادوں کا لمس

    نہیں تنہا نہیں ہوں میں تمہارے سحر کے دھاگوں نے میرے جسم و جاں کو باندھ رکھا ہے حسیں یادوں کا شیریں لمس میری روح کو چھو کر مری آنکھوں سے بہتا ہے تم اپنی انگلیوں کی نرم پوروں سے مرے ہاتھوں کو چھوتے ہو بہت دھیرے سے تم اپنے دہکتے لب مرے گالوں پہ رکھ کر آنسوؤں کو پونچھ دیتے ہو میں اپنی ...

    مزید پڑھیے