ان کے رخ پر حجاب رہتا ہے
ان کے رخ پر حجاب رہتا ہے جیسے مہ پر سحاب رہتا ہے وصل کا جب سوال ہو ان سے بس ''نہیں'' میں جواب رہتا ہے پاس رہ کر بھی درمیاں اپنے فاصلہ بے حساب رہتا ہے حسن والوں سے جو وفا چاہے اس کا خانہ خراب رہتا ہے ہم سفر سوہنی سی ہو کوئی میرے خوں میں چناب رہتا ہے مثل طائر ہوا میں اڑتا ہوں میری ...