Laiq Aajiz

لئیق عاجز

لئیق عاجز کی غزل

    طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہو

    طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہو تم اگر دوست ہو تو دل کو دکھاتے کیوں ہو دیکھ لے یہ بھی زمانہ کہ ہو تم کتنے امیر اپنی پلکوں کے نگینے کو چھپاتے کیوں ہو اے مرے پاؤں کے چھالو مرے ہمراہ رہو امتحاں سخت ہے تم چھوڑ کے جاتے کیوں ہو تشنگی سے مری برسوں کی شناسائی ہے بیچ میں نہر کی دیوار ...

    مزید پڑھیے

    مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورت

    مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورت مری حیات ہے اک تشنہ خواب کی صورت ہواؤ دل کی طرف احتیاط سے جانا وجود امن کا ہے قائم حباب کی صورت ملامتیں غم و آلام فکر مایوسی یہ زندگی ہے شکستہ کتاب کی صورت خود اپنی کرگسی فطرت سے ہو گئے رسوا وگرنہ تم بھی اٹھے تھے عقاب کی صورت کبھی فلک تو سمندر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2