Laiq Aajiz

لئیق عاجز

لئیق عاجز کی غزل

    ترک جام و سبو نہ کر پائے

    ترک جام و سبو نہ کر پائے اس لیے ہم وضو نہ کر پائے وقت آخر بھی حضرت ناصح اپنا منہ قبلہ رو نہ کر پائے اس کی رحمت کے سائبان میں تھا میرا شک بھی عدو نہ کر پائے مصلحت کی کھڑی تھی جو دیوار دور اس کو کبھو نہ کر پائے عمر بھر دوسروں کی فکر رہی اپنا دامن رفو نہ کر پائے ہائے مجبوریاں کہ اس ...

    مزید پڑھیے

    ایک دنیا بنا گئی مٹی

    ایک دنیا بنا گئی مٹی جس گھڑی روح پا گئی مٹی جس نے سوچا کہ روند دیں اس کو آخر اک دن چبا گئی مٹی میں نے جتنے بھی بیج بوئے تھے بانجھ عورت تھی کھا گئی مٹی تشنگی تھی کنویں کی قیمت میں بدلی چھائی گرا گئی مٹی سرخ رو ہے وہ ساری دنیا میں ساتھ جس کا نبھا گئی مٹی سب قبالے اٹھا کے لے ...

    مزید پڑھیے

    صبا یہ بارگہہ حسن میں خبر کرنا

    صبا یہ بارگہہ حسن میں خبر کرنا اسے تو چاہئے ذروں کو بھی قمر کرنا میں چاہتا ہوں تعلق کے درمیاں پردہ وہ چاہتا ہے مرے حال پر نظر کرنا مرے خدا مری دنیا ہی ختم کر دینا اگر دعاؤں کو میری تو بے اثر کرنا یہ دیکھ لینا محلے کے لوگ کیسے ہیں پھر اس کے بعد ہی تعمیر اپنا گھر کرنا تمہارا کام ...

    مزید پڑھیے

    مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا

    مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا پہلے جو اضطراب تھا نہ رہا کفر ہی دین بن گیا میرا کفر میں جو حجاب تھا نہ رہا لذت صبح و شام بھول گئے دل جو بھن کر کباب تھا نہ رہا بے حیائی کی اوڑھ لی چادر پہلے وہ آب آب تھا نہ رہا اس نے اب ساتھ میرا چھوڑ دیا عشق میں کامیاب تھا نہ رہا روز و شب چین سے ...

    مزید پڑھیے

    زمانہ ڈھونڈ رہا تھا کدھر گیا پانی

    زمانہ ڈھونڈ رہا تھا کدھر گیا پانی کسی کا حکم ہوا تو ٹھہر گیا پانی وہ دھوپ تھی کہ زمیں جل کے راکھ ہو جاتی برس کے اب کے بڑا کام کر گیا پانی بڑا غرور تھا اپنی چمک دمک پہ اسے سنار نے جو تپایا اتر گیا پانی خدا کا خوف نہیں اب تمہارے ذہنوں میں توہمات کا اس طرح بھر گیا پانی شکست خوردہ ...

    مزید پڑھیے

    بادشاہی ہو کہ دریوزہ گری کا موسم

    بادشاہی ہو کہ دریوزہ گری کا موسم بھولتا ہی نہیں وہ ہم سفری کا موسم کھیتیاں چھالوں کی ہوتی تھیں لہو اگتے تھے کتنا زرخیز تھا وہ در بدری کا موسم حرز جاں ٹھہرے جو صحرا میں ٹھکانہ مل جائے بستیوں میں تو ہے آشفتہ سری کا موسم آؤ زخموں سے پھر اک بار لپٹ کر رو لیں ورنہ آنے کو ہے اب بخیہ ...

    مزید پڑھیے

    دشمنوں کو دوست بھائی کو ستم گر کہہ دیا

    دشمنوں کو دوست بھائی کو ستم گر کہہ دیا لوگ کیوں برہم ہیں کیا شیشے کو پتھر کہہ دیا اس لیے مجھ کو امیر شہر نے دی ہے سزا میں نے خود کو خادم سبط پیمبر کہہ دیا چڑھتے سورج کی پرستش میں سبھی مصروف تھے مجھ سے جب پوچھا گیا اللہ اکبر کہہ دیا کتنے سادہ لوح ہیں یہ سب سفیران جنوں راہزن بھی ...

    مزید پڑھیے

    اس حسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اور

    اس حسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اور میری اداس راتوں کے بجھتے دیے تھے اور زخموں کو نوک خار کی لذت پسند تھی ویسے تمہارے گھر کے کئی راستے تھے اور میں ہی نہیں تھا کھوکھلے پیڑوں کے درمیاں مجھ جیسے نا شناس وہاں پر کھڑے تھے اور اس سے بچھڑ کے رونے کی فرصت نہیں ملی قرطاس زندگی پہ کئی غم ...

    مزید پڑھیے

    سجا رہے گا اندھیروں سے ہی کھنڈر میرا

    سجا رہے گا اندھیروں سے ہی کھنڈر میرا اک ایک کر کے ہوا ختم اب سفر میرا مرا مزاج مرا طرز زندگی ہے جدا نہ ہو سکے گا مرے گھر میں بھی گزر میرا جو کام آ سکے لے جا مرے عزیز ابھی یہ تیرے سامنے حاضر ہے آج سر میرا قلم اٹھاؤں کہ بچوں کی زندگی دیکھوں پڑا ہوا ہے دوراہے پہ اب ہنر میرا ہے خشک ...

    مزید پڑھیے

    جب سے مری تقدیر کا ڈوبا سورج

    جب سے مری تقدیر کا ڈوبا سورج اس روز سے اب تک نہیں دیکھا سورج ڈوبے گا بہت جلد یہ چڑھتا سورج اس واسطے میں نے نہیں پوجا سورج جب سے ترے چہرے کی چمک دیکھی ہے آنکھوں کو مری اک نہیں جچتا سورج تاریکی سے ہر شخص کو فرصت تو ملی میرے لیے اب تک نہیں نکلا سورج کرنوں کو وہ بازار میں بیچ آیا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2