Kumar Vishwas

کمار وشواس

کمار وشواس کے تمام مواد

14 غزل (Ghazal)

    سب تمنائیں ہوں پوری کوئی خواہش بھی رہے

    سب تمنائیں ہوں پوری کوئی خواہش بھی رہے چاہتا وہ ہے محبت میں نمائش بھی رہے آسماں چومے مرے پنکھ تری رحمت سے اور کسی پیڑ کی ڈالی پہ رہائش بھی رہے اس نے سونپا نہیں مجھ کو مرے حصے کا وجود اس کی کوشش ہے کہ مجھ سے مری رنجش بھی رہے مجھ کو معلوم ہے میرا ہے وہ میں اس کا ہوں اس کی چاہت ہے کہ ...

    مزید پڑھیے

    ہم کہاں ہیں یہ پتا لو تم بھی

    ہم کہاں ہیں یہ پتا لو تم بھی بات آدھی تو سنبھالو تم بھی دل لگایا ہی نہیں تھا تم نے دل لگی کی تھی مزا لو تم بھی ہم کو آنکھوں میں نہ آنجو لیکن خود کو خود پر تو سجا لو تم بھی جسم کی نیند میں سونے والوں روح میں خواب تو پالو تم بھی

    مزید پڑھیے

    میں تو جھونکا ہوں ہواؤں کا اڑا لے جاؤں گا

    میں تو جھونکا ہوں ہواؤں کا اڑا لے جاؤں گا جاگتی رہنا تجھے تجھ سے چرا لے جاؤں گا ہو کے قدموں پہ نچھاور پھول نے بت سے کہا خاک میں مل کر بھی میں خوشبو بچا لے جاؤں گا کون سی شے مجھ کو پہنچائے گی تیرے شہر تک یہ پتا تو تب چلے گا جب پتا لے جاؤں گا کوششیں مجھ کو مٹانے کی بھلے ہوں ...

    مزید پڑھیے

    آبشاروں کی یاد آتی ہے

    آبشاروں کی یاد آتی ہے پھر کناروں کی یاد آتی ہے جو نہیں ہیں مگر انہیں سے ہوں ان نظاروں کی یاد آتی ہے زخم پہلے ابھر کے آتے ہیں پھر ہزاروں کی یاد آتی ہے آئنے میں نہار کر خود کو کچھ اشاروں کی یاد آتی ہے اور تو مجھ کو یاد کیا آتا ان پکاروں کی یاد آتی ہے آسماں کی سیاہ راتوں کو اب ...

    مزید پڑھیے

    تمہیں جینے میں آسانی بہت ہے

    تمہیں جینے میں آسانی بہت ہے تمہارے خون میں پانی بہت ہے کبوتر عشق کا اترے تو کیسے تمہاری چھت پہ نگرانی بہت ہے ارادہ کر لیا گر خودکشی کا تو خود کی آنکھ کا پانی بہت ہے زہر سولی نے گالی گولیوں نے ہماری ذات پہچانی بہت ہے تمہارے دل کی من مانی مری جاں ہمارے دل نے بھی مانی بہت ہے

    مزید پڑھیے

تمام