Kuldeep Gauhar

کلدیپ گوہر

کلدیپ گوہر کی غزل

    بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی

    بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی اک نیا ربط باہمی ہے ابھی مجھ کو ایسا گمان ہوتا ہے نا مکمل سی زندگی ہے ابھی باوجودے ہزار ناکامی زندگی میں ہماہمی ہے ابھی ایک بجلی سی ہے جو رہ رہ کر گوشۂ دل میں کوندتی ہے ابھی شوق سے آؤ قافلے والو راہ منزل بلا رہی ہے ابھی یوں تو تم بھی اداس اداس سے ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا

    ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا رواداری کی راہوں سے بھٹک جانا نہیں آتا دیا امید کا رہبر بنا لیتا ہوں منزل تک مجھے رستے کی تاریکی سے گھبرانا نہیں آتا گلستان محبت میں کچھ ایسے پھول کھلتے ہیں جنہیں موسم بدلنے پر بھی مرجھانا نہیں آتا جہاں تک ہو سکے ہر حال میں ہم شاد ...

    مزید پڑھیے

    ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف

    ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف ہیں مذہبی پرخاش کے انجام سے واقف تا عمر رہے ہیں جو مئے و جام سے واقف ہو پائے نہ وہ گردش ایام سے واقف تنویر سحر جن کی نگاہوں میں بسی ہو کب ہوتے ہیں وہ تیرگئ شام سے واقف منزل پہ پہنچنا ہمیں دشوار نہیں ہے ہم ہیں بخدا اپنے ہر اک گام سے واقف پیکر ...

    مزید پڑھیے

    جو فرض عائد ہوا ہے ہم پر اسے خوشی سے ادا کریں گے

    جو فرض عائد ہوا ہے ہم پر اسے خوشی سے ادا کریں گے ہمارا شیوہ یہی رہا ہے جفا کے بدلے وفا کریں گے شکستہ کشتی مہیب طوفان اور ساحل نظر سے اوجھل عذاب کتنے ہی آئیں ہم پہ نہ منت ناخدا کریں گے رسائی کیسے وفا کی منزل پہ ہوگی یہ راز ہم سے پوچھو جہاں سفر ختم سب کا ہوگا وہیں سے ہم ابتدا کریں ...

    مزید پڑھیے

    اک عجب روگ مرے جی کو لگا برسوں سے

    اک عجب روگ مرے جی کو لگا برسوں سے راس آئی بھی نہیں کوئی دوا برسوں سے یوں تو آنے کو بہار آئی خزاں بھی آئی دل کے ماحول کی بدلی نہ فضا برسوں سے میرے ہی دل کی یہ خوبی ہے کہ اس میں یارو رات دن ہوتا ہے ہنگامہ بپا برسوں سے منتیں مانگیں دوا اور دعا بھی کر لی غنچۂ دل کسی صورت نہ کھلا برسوں ...

    مزید پڑھیے

    وہی ہے طرز تغافل وہی ہے خو مجھ میں

    وہی ہے طرز تغافل وہی ہے خو مجھ میں اتر گیا ہو وہ جیسے کہ ہو بہ ہو مجھ میں میں منزلوں کو بھی اب رہ گزر سمجھتا ہوں کہاں سے امڑا ہے یہ شوق جستجو مجھ میں رہے گا زندگی پہ فخر تا دم آخر اگر جھلکتی رہی شان آبرو مجھ میں خوشی یہی ہے بالآخر کسی کے کام آئے بچا ہوا ہے جو اک بوند بھر لہو مجھ ...

    مزید پڑھیے

    تجدید لتفات کا امکاں نہیں رہا

    تجدید لتفات کا امکاں نہیں رہا عیش و نشاط زیست کا ساماں نہیں رہا اک ایک کر کے دل کے سب ارمان مٹ گئے صد شکر دل میں اب کوئی ارماں نہیں رہا فصل بہار آ کے بھی کیا گل کھلائے گی وہ گل نہیں رہے وہ گلستاں نہیں رہا دینے لگی ہے موت مرے در پہ دستکیں اب زندگی کا مجھ پہ کچھ احساں نہیں ...

    مزید پڑھیے

    سر بھی بھاری ہے دل بھی بھاری ہے

    سر بھی بھاری ہے دل بھی بھاری ہے بے قراری سی بے قراری ہے آسماں پر ستارے ہیں روشن کیسی قدرت کی دست کاری ہے پیاس نے آج کر دیا ثابت ذائقہ آنسوؤں کا کھاری ہے آپ جس کو نہ سن سکے اب تک بس وہی داستاں ہماری ہے رات کے بعد صبح کا آنا سلسلہ یہ ازل سے جاری ہے آج کل کے شریف زادوں میں صاف گوئی ...

    مزید پڑھیے

    قدم قدم پہ ٹھہرتے تھے ڈر ہی ایسا تھا

    قدم قدم پہ ٹھہرتے تھے ڈر ہی ایسا تھا نہ طے ہوا کبھی ہم سے سفر ہی ایسا تھا مہیب سائے سے آتے رہے نظر ہر سو یہ ذکر دشت نہیں اپنا گھر ہی ایسا تھا نہ راس آئے ہیں عیش و نشاط کے لمحے نظام دہر کا ہم پر اثر ہی ایسا تھا کوئی بھی عیب پھٹکنے نہ پایا پاس اپنے ہمارے پاس طلسم ہنر ہی ایسا ...

    مزید پڑھیے