بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی
بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی اک نیا ربط باہمی ہے ابھی مجھ کو ایسا گمان ہوتا ہے نا مکمل سی زندگی ہے ابھی باوجودے ہزار ناکامی زندگی میں ہماہمی ہے ابھی ایک بجلی سی ہے جو رہ رہ کر گوشۂ دل میں کوندتی ہے ابھی شوق سے آؤ قافلے والو راہ منزل بلا رہی ہے ابھی یوں تو تم بھی اداس اداس سے ...