Kuldeep Gauhar

کلدیپ گوہر

کلدیپ گوہر کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی

    بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی اک نیا ربط باہمی ہے ابھی مجھ کو ایسا گمان ہوتا ہے نا مکمل سی زندگی ہے ابھی باوجودے ہزار ناکامی زندگی میں ہماہمی ہے ابھی ایک بجلی سی ہے جو رہ رہ کر گوشۂ دل میں کوندتی ہے ابھی شوق سے آؤ قافلے والو راہ منزل بلا رہی ہے ابھی یوں تو تم بھی اداس اداس سے ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا

    ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا رواداری کی راہوں سے بھٹک جانا نہیں آتا دیا امید کا رہبر بنا لیتا ہوں منزل تک مجھے رستے کی تاریکی سے گھبرانا نہیں آتا گلستان محبت میں کچھ ایسے پھول کھلتے ہیں جنہیں موسم بدلنے پر بھی مرجھانا نہیں آتا جہاں تک ہو سکے ہر حال میں ہم شاد ...

    مزید پڑھیے

    ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف

    ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف ہیں مذہبی پرخاش کے انجام سے واقف تا عمر رہے ہیں جو مئے و جام سے واقف ہو پائے نہ وہ گردش ایام سے واقف تنویر سحر جن کی نگاہوں میں بسی ہو کب ہوتے ہیں وہ تیرگئ شام سے واقف منزل پہ پہنچنا ہمیں دشوار نہیں ہے ہم ہیں بخدا اپنے ہر اک گام سے واقف پیکر ...

    مزید پڑھیے

    جو فرض عائد ہوا ہے ہم پر اسے خوشی سے ادا کریں گے

    جو فرض عائد ہوا ہے ہم پر اسے خوشی سے ادا کریں گے ہمارا شیوہ یہی رہا ہے جفا کے بدلے وفا کریں گے شکستہ کشتی مہیب طوفان اور ساحل نظر سے اوجھل عذاب کتنے ہی آئیں ہم پہ نہ منت ناخدا کریں گے رسائی کیسے وفا کی منزل پہ ہوگی یہ راز ہم سے پوچھو جہاں سفر ختم سب کا ہوگا وہیں سے ہم ابتدا کریں ...

    مزید پڑھیے

    اک عجب روگ مرے جی کو لگا برسوں سے

    اک عجب روگ مرے جی کو لگا برسوں سے راس آئی بھی نہیں کوئی دوا برسوں سے یوں تو آنے کو بہار آئی خزاں بھی آئی دل کے ماحول کی بدلی نہ فضا برسوں سے میرے ہی دل کی یہ خوبی ہے کہ اس میں یارو رات دن ہوتا ہے ہنگامہ بپا برسوں سے منتیں مانگیں دوا اور دعا بھی کر لی غنچۂ دل کسی صورت نہ کھلا برسوں ...

    مزید پڑھیے

تمام