Krishn Murari

کرشن مراری

کرشن مراری کی غزل

    خلوت میں خیالوں کی یہ انجمن آرائی

    خلوت میں خیالوں کی یہ انجمن آرائی آباد ہے اب کتنا ویرانۂ تنہائی ایسے بھی مراحل کچھ آئے رہ ہستی میں محسوس ہوا منزل خود پاس چلی آئی تو شمع مسرت ہے غم خانۂ امکاں میں دم سے ترے قائم ہے ہر بزم کی رعنائی ہے یاد تری کیا کیا مائل بہ کرم مجھ پر گزرے ہوئے لمحوں کو جو ساتھ لیے ...

    مزید پڑھیے

    کس قدر اجنبی ہے نظر اب تری

    کس قدر اجنبی ہے نظر اب تری دیکھ کر بھی جو شاید نہیں دیکھتی زلف رخ پر ترے جو مچلتی رہی کچھ اجالے اندھیرے رہی بانٹتی کیا ترے لمس سے آج محروم ہے چل رہی ہے صبا آج بہکی ہوئی تھی سراپا قیامت مرے سامنے یاد ہے یاد ہے وہ گھڑی ایک لمبے سفر کی تھکن کو لیے مسکراتی رہی رات بھر چاندنی

    مزید پڑھیے

    اک فضا شوخ سی گنگنانے لگی

    اک فضا شوخ سی گنگنانے لگی من کی بے کل سی کلیاں کھلانے لگی بھاگتی منزلیں سوچتے راستے ایک ان تھک تھکن راس آنے لگی شوخ ندی کی بہت ہوئی راگنی دودھیا چاندنی میں نہانے لگی اک ترے نور سے ہے منور فضا اک تری موہنی دل لبھانے لگی ساعتوں کی حسیں چمپئی روشنی نت نیا شوخ جادو جگانے لگی پھر ...

    مزید پڑھیے

    ادھر آئے تو اسے پاس بلا کر دیکھیں

    ادھر آئے تو اسے پاس بلا کر دیکھیں حال دل اس کو ذرا آج سنا کر دیکھیں بزم عشرت میں جو رہتی ہے مسلسل روشن آج کی رات وہی شمع بجھا کر دیکھیں ذرے ذرے میں ہیں کتنے ہی مناظر روشن آپ پلکوں کی یہ چلمن تو اٹھا کر دیکھیں ظلمت غم میں تجلی کا سماں ہو شاید آج ہم اپنے نشیمن کو جلا کر ...

    مزید پڑھیے