Krishn Murari

کرشن مراری

کرشن مراری کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    خلوت میں خیالوں کی یہ انجمن آرائی

    خلوت میں خیالوں کی یہ انجمن آرائی آباد ہے اب کتنا ویرانۂ تنہائی ایسے بھی مراحل کچھ آئے رہ ہستی میں محسوس ہوا منزل خود پاس چلی آئی تو شمع مسرت ہے غم خانۂ امکاں میں دم سے ترے قائم ہے ہر بزم کی رعنائی ہے یاد تری کیا کیا مائل بہ کرم مجھ پر گزرے ہوئے لمحوں کو جو ساتھ لیے ...

    مزید پڑھیے

    کس قدر اجنبی ہے نظر اب تری

    کس قدر اجنبی ہے نظر اب تری دیکھ کر بھی جو شاید نہیں دیکھتی زلف رخ پر ترے جو مچلتی رہی کچھ اجالے اندھیرے رہی بانٹتی کیا ترے لمس سے آج محروم ہے چل رہی ہے صبا آج بہکی ہوئی تھی سراپا قیامت مرے سامنے یاد ہے یاد ہے وہ گھڑی ایک لمبے سفر کی تھکن کو لیے مسکراتی رہی رات بھر چاندنی

    مزید پڑھیے

    اک فضا شوخ سی گنگنانے لگی

    اک فضا شوخ سی گنگنانے لگی من کی بے کل سی کلیاں کھلانے لگی بھاگتی منزلیں سوچتے راستے ایک ان تھک تھکن راس آنے لگی شوخ ندی کی بہت ہوئی راگنی دودھیا چاندنی میں نہانے لگی اک ترے نور سے ہے منور فضا اک تری موہنی دل لبھانے لگی ساعتوں کی حسیں چمپئی روشنی نت نیا شوخ جادو جگانے لگی پھر ...

    مزید پڑھیے

    ادھر آئے تو اسے پاس بلا کر دیکھیں

    ادھر آئے تو اسے پاس بلا کر دیکھیں حال دل اس کو ذرا آج سنا کر دیکھیں بزم عشرت میں جو رہتی ہے مسلسل روشن آج کی رات وہی شمع بجھا کر دیکھیں ذرے ذرے میں ہیں کتنے ہی مناظر روشن آپ پلکوں کی یہ چلمن تو اٹھا کر دیکھیں ظلمت غم میں تجلی کا سماں ہو شاید آج ہم اپنے نشیمن کو جلا کر ...

    مزید پڑھیے

1 نظم (Nazm)

    نظم

    میں نے اک انجان نگر میں ایک مکاں پر دستک دی ہے مجھ کو یہ آشا تھی کوئی فرشتہ سیرت اپنی بصیرت اپنے نور دل سے میرا رہبر ہوگا لیکن اب میں دیکھ رہا ہوں سناٹے کا بھوت کھڑا ہے بے حس وحشت کا اک پیکر زہر آمیز ہنسی ہنستا ہے

    مزید پڑھیے