Kishan Kumaar Waqaar

کشن کمار وقار

کشن کمار وقار کے تمام مواد

37 غزل (Ghazal)

    عاشق گیسو‌ دوتا ہوں میں

    عاشق گیسو‌ دوتا ہوں میں آپ اپنے لیے بلا ہوں میں کیا شکایت اگر نہ جانے یار خود نہیں جانتا کہ کیا ہوں میں مثل گل ہنس کے میں کبھی نہ کھلا غنچہ ساں زیست سے خفا ہوں میں میں تو اے جان ہوں برے سے برا میرا یہ منہ کہوں بھلا ہوں میں دل ہے آئینۂ دو رو اپنا دوست دشمن سے ایک سا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    اس کی دیوار کا جو روزن ہے

    اس کی دیوار کا جو روزن ہے خور کا چشم و چراغ روشن ہے لطف مفرط سے دوست دشمن ہے بارش بیش برق خرمن ہے گوشہ گیری میں حرص افزوں ہو صبح شبنم کو فکر‌ رفتن ہے عشق میں تیرے تار تار اے شوخ جیب غنچہ کی گل کا دامن ہے شوق میں تیری تیغ کا یکسر شمع ساں تن تمام گردن ہے بحث کرتا ہے شیخ کعبہ سے جو ...

    مزید پڑھیے

    کبھی اے اشک تر آنکھوں سے ڈھل پڑ

    کبھی اے اشک تر آنکھوں سے ڈھل پڑ کبھی اے آہ دل منہ سے نکل پڑ نہ اے پاۓ تصور اتنا شل پڑ کبھی تو لا مکاں سے آگے چل پڑ ہوا وہ بت نہ دو دن بھی کبھی رام جہنم میں تو اے علم و عمل پڑ وہ رقصاں بزم میں ہیں تو بھی اے دل کبھی تو وجد میں آ کر اچھل پڑ کسی دن تو کبھی اے ابر رحمت مرے بیت الحزن میں ...

    مزید پڑھیے

    وہ مژہ مارتی کٹاری ہے

    وہ مژہ مارتی کٹاری ہے چشم بددور زخم کاری ہے آنکھیں چمکا گیا وہ برق آسا دل مرا وقف بے قراری ہے قیس باد صبا ہے بو لیلیٰ شاخ گل نافہ کی سواری ہے زلف تک گو نہ پہونچا شانہ وار ہاتھ کو پر امیدواری ہے دل پہ چڑھتی نہیں کوئی تدبیر میری تقدیر وہ اتاری ہے دوستوں سے ہے ان کی عیاری اور ...

    مزید پڑھیے

    دلوں پر یہ نقش اس نے اپنا بٹھایا

    دلوں پر یہ نقش اس نے اپنا بٹھایا کہ جو چوٹ پر صید آیا بٹھایا مثال‌ کبوتر مرے دل کو اس نے بھگایا بلایا اٹھایا بٹھایا ترے آتشیں حسن نے شمع کو شب کھپایا جلایا گلایا بٹھایا اٹھایا اسی غم نے دنیا سے پیارے کبھی تم نے ہم کو نہ تنہا بٹھایا سمجھ تیری الٹی ہے اے جان عالم کہ اپنا اٹھایا ...

    مزید پڑھیے

تمام