Kirti Ratan Singh

کرتی رتن سنگھ

کرتی رتن سنگھ کی غزل

    کہیں تو روز ہی میلے کہیں پرچم اکھڑتا ہے

    کہیں تو روز ہی میلے کہیں پرچم اکھڑتا ہے کہیں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں کہیں بس دم اکھڑتا ہے نہیں ممکن ہے کوئی پیڑ یوں جڑ چھوڑ دے اپنی اگر ہو جائے گی مٹی ذرا بھی نم اکھڑتا ہے کرو کوشش بھلے ہی لاکھ ٹوٹے دل بچانے کی مگر موسم وہی آ جاے تو ہر غم اکھڑتا ہے اگر چلنا ہے کانٹوں پر تو چوٹوں کو ...

    مزید پڑھیے

    میرے غربت کے دنوں میں حوصلہ دے جائے گا

    میرے غربت کے دنوں میں حوصلہ دے جائے گا دوست میرے تو خوشی کی اک صدا دے جائے گا جب کسی کی آنکھ کا آنسو ہو جمع سوکھ کر دیکھنا تم یہ ہی آنسو زلزلہ دے جائے گا دھڑکنوں میں ہے بسایا تو نے جس کو رات دن جانے کس دن تجھ کو وہ دل بر جفا دے جائے گا زخم سارے بھر میں دوں گا یوں کہا اس نے کبھی کیا ...

    مزید پڑھیے

    رات چھلکی شراب آنکھوں میں

    رات چھلکی شراب آنکھوں میں مہکے سارے ہی خواب آنکھوں میں دیکھو تم ایسا کچھ نہیں کہنا ہوں جو نیندیں خراب آنکھوں میں سچ کہوں تم نے وہ پڑھی ہی نہیں ہے جو لکھی کتاب آنکھوں میں کیا کہیں تیری اس ادا کو ہم دیتے رہنا جواب آنکھوں میں تم نے جس دن سے مجھ کو چاہا ہے کھل اٹھے ہیں گلاب آنکھوں ...

    مزید پڑھیے

    تم نہیں سمجھے کبھی ان کی زباں

    تم نہیں سمجھے کبھی ان کی زباں دامن گل مانگتی ہیں تتلیاں آج بھی عورت کے حصے آگ ہے کتنی بھی بے شک ہوں اس پہ ڈگریاں پوچھ بیٹھے تھے تمہیں کل روک کر ورنہ کیوں ہم کھولتے اپنی زباں کر لے خدمت اب تو تو ماں باپ کی اور بس کچھ روز ہیں یہ جسم و جاں تم بھلے کتنا بھی اس کو کوس لو مامتا میں ماں ...

    مزید پڑھیے

    آپکا جب سے آنا ہوا

    آپکا جب سے آنا ہوا خوش نما آشیانہ ہوا ان کی باتیں غزل ہو گئیں اپنا دل شاعرانہ ہوا رات کی کیا کہیں رات بھر ان کا خوابوں میں آنا ہوا عشق کیجے تو مت سوچئے کس گلی آنا جانا ہوا دل کا پنچھی وہیں جائے گا جس جگہ آب و دانہ ہوا جس کے بن ایک پل بوجھ تھا اس کو دیکھے زمانہ ہوا قد سے سایہ ...

    مزید پڑھیے