کہیں تو روز ہی میلے کہیں پرچم اکھڑتا ہے
کہیں تو روز ہی میلے کہیں پرچم اکھڑتا ہے کہیں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں کہیں بس دم اکھڑتا ہے نہیں ممکن ہے کوئی پیڑ یوں جڑ چھوڑ دے اپنی اگر ہو جائے گی مٹی ذرا بھی نم اکھڑتا ہے کرو کوشش بھلے ہی لاکھ ٹوٹے دل بچانے کی مگر موسم وہی آ جاے تو ہر غم اکھڑتا ہے اگر چلنا ہے کانٹوں پر تو چوٹوں کو ...