میرے غربت کے دنوں میں حوصلہ دے جائے گا
میرے غربت کے دنوں میں حوصلہ دے جائے گا
دوست میرے تو خوشی کی اک صدا دے جائے گا
جب کسی کی آنکھ کا آنسو ہو جمع سوکھ کر
دیکھنا تم یہ ہی آنسو زلزلہ دے جائے گا
دھڑکنوں میں ہے بسایا تو نے جس کو رات دن
جانے کس دن تجھ کو وہ دل بر جفا دے جائے گا
زخم سارے بھر میں دوں گا یوں کہا اس نے کبھی
کیا خبر تھی زہر میں ڈوبی ہوا دے جائے گا