Khwaja Aziz-ul-Hasan Majzuub

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

  • 1884 - 1944

خواجہ عزیز الحسن مجذوب کی غزل

    ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی

    ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی وہ ریا جس پر تھے زاہد طعنہ زن پہلے عادت پھر عبادت ہو گئی جی رہا ہوں موت کی امید میں مر ہی جاؤں گا جو صحت ہو گئی لاکھ جھڑکو اب نہیں پھرتا ہے دل ہو گئی اب تو محبت ہو گئی منع شے واعظ ہے وجہ حرص شے اب تو مے سے اور رغبت ہو گئی یا تو ...

    مزید پڑھیے

    دل ربا پہلو سے اب اٹھ کر جدا ہونے کو ہے

    دل ربا پہلو سے اب اٹھ کر جدا ہونے کو ہے کیا غضب ہے کیا قیامت ہے یہ کیا ہونے کو ہے دشمنیٔ خلق میری رہنما ہونے کو ہے اب مرا دست طلب دست دعا ہونے کو ہے تو نے چاہا تھا برا میرا بھلا ہونے کو ہے آب خنجر حلق میں آب بقا ہونے کو ہے آج تو جی بھر کے پی لینے دے اے ساقی مجھے جان ہی جاتی رہے گی ...

    مزید پڑھیے

    نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گا

    نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گا تقاضا لاکھ تو کر اے دل شیدا نہ دیکھوں گا کروں ناصح میں کیونکر ہائے یہ وعدہ نہ دیکھوں گا نظر پڑ جائے گی خود ہی جو دانستہ نہ دیکھوں گا نگاہ ناز کو تیری میں شرمندہ نہ دیکھوں گا ہٹائے لیتا ہوں اپنی نظر اچھا نہ دیکھوں گا وہ کہتے ہیں نہ ...

    مزید پڑھیے

    پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں

    پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں کوئی محفل ہو ہم اس کو تری محفل سمجھتے ہیں بڑے ہشیار ہیں وہ جن کو سب غافل سمجھتے ہیں نظر پہچانتے ہیں وہ مزاج دل سمجھتے ہیں وہ خود کامل ہیں مجھ ناقص کو جو کامل سمجھتے ہیں وہ حسن ظن سے اپنا ہی سا میرا دل سمجھتے ہیں سمجھتا ہے گنہ رندی کو تو اے ...

    مزید پڑھیے

    وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانا

    وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانا یہیں دیکھا گیا ہے بے پیے سرشار ہو جانا ہمارا شغل ہے راتوں کو رونا یاد دلبر میں ہماری نیند ہے محو خیال یار ہو جانا لگاوٹ سے تری کیا دل کھلے معلوم ہے ہم کو ذرا سی بات میں کھنچ کر ترا تلوار ہو جانا عبث ہے جستجو بحر محبت کے کنارے کی بس اس میں ڈوب ...

    مزید پڑھیے

    ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیا

    ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیا عالم مجھے سب جلوہ ہی جلوہ نظر آیا تو کب کسی طالب کو سراپا نظر آیا دیکھا تجھے اتنا جسے جتنا نظر آیا کیں بند جب آنکھیں تو مری کھل گئیں آنکھیں کیا تم سے کہوں پھر مجھے کیا کیا نظر آیا جب مہر نمایاں ہوا سب چھپ گئے تارے تو مجھ کو بھری بزم میں تنہا نظر ...

    مزید پڑھیے

    نظارے ہوئے ہیں اشارے ہوئے ہیں

    نظارے ہوئے ہیں اشارے ہوئے ہیں ہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیں ہمیں تو بھلے لگتے ہیں اور بھی اب وہ زیور کو اپنے اتارے ہوئے ہیں نہیں پاس کچھ ایک دل ہے سو وہ بھی قمار محبت میں ہارے ہوئے ہیں مزے وصل میں جو اٹھائے تھے اے دل جدائی میں اب وہ ہی آرے ہوئے ہیں ہمیں ہوش ہے اب کہاں تن بدن ...

    مزید پڑھیے

    وفا کر کے اس کا صلا چاہتا ہوں

    وفا کر کے اس کا صلا چاہتا ہوں بڑا ناسزا ہوں سزا چاہتا ہوں بتوں کو برائے خدا چاہتا ہوں سر خم دل مبتلا چاہتا ہوں رہا عمر بھر چپ میں یوں ان کے آگے کہ جیسے کچھ ان سے کہا چاہتا ہوں ستائے بھی کوئی تو پائے دعائیں گدا ہوں میں سب کا بھلا چاہتا ہوں بھلاتا ہوں پھر بھی وہ یاد آ رہے ہیں وہی ...

    مزید پڑھیے

    ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتا

    ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتا کہے وہ کس سے کوئی نکتہ داں نہیں ہوتا سب ایک رنگ میں ہیں مے کدے کے خورد و کلاں یہاں تفاوت پیر و جواں نہیں ہوتا قمار عشق میں سب کچھ گنوا دیا میں نے امید نفع میں خوف زیاں نہیں ہوتا سہم رہا ہوں میں اے اہل قبر بتلا دو زمیں تلے تو کوئی آسماں نہیں ہوتا وہ ...

    مزید پڑھیے

    جلوہ فرما دیر تک دل بر رہا

    جلوہ فرما دیر تک دل بر رہا اپنی کہہ لی سب نے میں ششدر رہا جسم بے حس بے شکن بستر رہا میں نئے انداز سے مضطر رہا میں خراب بادہ و ساغر رہا دل فدائے ساقیٔ کوثر رہا میں رہا تو باغ ہستی میں مگر بے نوا بے آشیاں بے پر رہا سب چمن والوں نے تو لوٹی بہار اور مجھے صیاد ہی کا ڈر رہا کوئی سمجھا ...

    مزید پڑھیے