ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی


وہ ریا جس پر تھے زاہد طعنہ زن
پہلے عادت پھر عبادت ہو گئی


جی رہا ہوں موت کی امید میں
مر ہی جاؤں گا جو صحت ہو گئی


لاکھ جھڑکو اب نہیں پھرتا ہے دل
ہو گئی اب تو محبت ہو گئی


منع شے واعظ ہے وجہ حرص شے
اب تو مے سے اور رغبت ہو گئی


یا تو مسجد رات دن یا مے کدہ
کیا سے کیا اللہ حالت ہو گئی


کر چکے رندی بس اب مجذوبؔ تم
ایک چلو میں یہ حالت ہو گئی