Khushbir Singh Shaad

خوشبیر سنگھ شادؔ

اہم ترین معاصر شاعروں میں شامل، عوامی مقبولیت بھی حاصل

One of the most prominent contemporary poets, also having popular appeal.

خوشبیر سنگھ شادؔ کی غزل

    کوئی نہیں تھا میرے مقابل بھی میں ہی تھا

    کوئی نہیں تھا میرے مقابل بھی میں ہی تھا شاید کہ اپنی راہ میں حائل بھی میں ہی تھا اپنے ہی گرد میں نے کیا عمر بھر سفر بھٹکایا مجھ کو جس نے وہ منزل بھی میں ہی تھا ابھرا ہوں جن سے بارہا مجھ میں تھے سب بھنور ڈوبا جہاں پہنچ کے وہ ساحل بھی میں ہی تھا آساں نہیں تھا سازشیں کرنا مرے ...

    مزید پڑھیے

    اندھیروں میں بھٹکنا ہے پریشانی میں رہنا ہے

    اندھیروں میں بھٹکنا ہے پریشانی میں رہنا ہے میں جگنو ہوں مجھے اک شب کی ویرانی میں رہنا ہے ابھی کچھ ضبط کا یارا مری آنکھوں میں باقی ہے ابھی اشکوں کو پلکوں کی نگہبانی میں رہنا ہے جو منظر رو بہ رو ہے دیکھ لوں اک بار جی بھر کے پھر اس کے بعد تو آنکھوں کو حیرانی میں رہنا ہے تری وحشت ...

    مزید پڑھیے

    رگوں میں زہر خاموشی اترنے سے ذرا پہلے

    رگوں میں زہر خاموشی اترنے سے ذرا پہلے بہت تڑپی کوئی آواز مرنے سے ذرا پہلے ذرا سی بات ہے کب یاد ہوگی ان ہواؤں کو میں اک پیکر تھا ذروں میں بکھرنے سے ذرا پہلے میں اشکوں کی طرح اس درد کو بھی ضبط کر لیتا مجھے آگاہ تو کرتا ابھرنے سے ذرا پہلے کوئی سورج سے یہ پوچھے کہ کیا محسوس ہوتا ...

    مزید پڑھیے

    جو شب کو منظر شب تاب میں تبدیل کرتے ہیں

    جو شب کو منظر شب تاب میں تبدیل کرتے ہیں وہ لمحے نیند کو بھی خواب میں تبدیل کرتے ہیں جو آنسو درد کی گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں وہی آنکھوں کو بھی گرداب میں تبدیل کرتے ہیں کسی جگنو کو ہم جب رات کی زینت بناتے ہیں ذرا سی روشنی مہتاب میں تبدیل کرتے ہیں اگر مل کر برس جائیں یہی بکھرے ...

    مزید پڑھیے

    روز دل میں حسرتوں کو جلتا بجھتا دیکھ کر

    روز دل میں حسرتوں کو جلتا بجھتا دیکھ کر تھک چکا ہوں زندگی کا یہ رویہ دیکھ کر ریزہ ریزہ کر دیا جس نے مرے احساس کو کس قدر حیران ہے وہ مجھ کو یکجا دیکھ کر کیا یہی محدود پیکر ہی حقیقت ہے مری سوچتا ہوں دن ڈھلے اب اپنا سایہ دیکھ کر کچھ طلب میں بھی اضافہ کرتی ہیں محرومیاں پیاس کا احساس ...

    مزید پڑھیے

    شام تک پھر رنگ خوابوں کا بکھر جائے گا کیا

    شام تک پھر رنگ خوابوں کا بکھر جائے گا کیا رائگاں ہی آج کا دن بھی گزر جائے گا کیا ڈھونڈنا ہے گھپ اندھیرے میں مجھے اک شخص کو پوچھنا سورج ذرا مجھ میں اتر جائے گا کیا مانتا ہوں گھٹ رہا ہے دم ترا اس حبس میں گر یہی جینے کی صورت ہے تو مر جائے گا کیا عین ممکن ہے بجا ہوں تیرے اندیشے ...

    مزید پڑھیے

    کوئی سوال نہ کر اور کوئی جواب نہ پوچھ

    کوئی سوال نہ کر اور کوئی جواب نہ پوچھ تو مجھ سے عہد گذشتہ کا اب حساب نہ پوچھ سفینے کتنے ہوئے اس میں غرق آب نہ پوچھ تو میرے دل کے سمندر کا اضطراب نہ پوچھ میں کب سے نیند کا مارا ہوا ہوں اور کب سے یہ میری جاگتی آنکھیں ہیں محو خواب نہ پوچھ سفر میں دھوپ کی شدت نے بھی ستایا مگر فریب ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3