کوئی نہیں تھا میرے مقابل بھی میں ہی تھا
کوئی نہیں تھا میرے مقابل بھی میں ہی تھا شاید کہ اپنی راہ میں حائل بھی میں ہی تھا اپنے ہی گرد میں نے کیا عمر بھر سفر بھٹکایا مجھ کو جس نے وہ منزل بھی میں ہی تھا ابھرا ہوں جن سے بارہا مجھ میں تھے سب بھنور ڈوبا جہاں پہنچ کے وہ ساحل بھی میں ہی تھا آساں نہیں تھا سازشیں کرنا مرے ...