ہم اس دیار کے اس خاکداں کے تھے ہی نہیں
ہم اس دیار کے اس خاکداں کے تھے ہی نہیں وہیں پہ آ کے بسے ہیں جہاں کے تھے ہی نہیں تھے جس کا مرکزی کردار ایک عمر تلک پتہ چلا کہ اسی داستاں کے تھے ہی نہیں سفر سے لوٹ کے حیرت ہوئی پرندے کو یہ خار و خس تو مرے آشیاں کے تھے ہی نہیں ہر ایک رنگ میں دیکھا ہے اس کو آنکھوں نے یہ رنگ پہلے کبھی ...