Khushbir Singh Shaad

خوشبیر سنگھ شادؔ

اہم ترین معاصر شاعروں میں شامل، عوامی مقبولیت بھی حاصل

One of the most prominent contemporary poets, also having popular appeal.

خوشبیر سنگھ شادؔ کی غزل

    ہم اس دیار کے اس خاکداں کے تھے ہی نہیں

    ہم اس دیار کے اس خاکداں کے تھے ہی نہیں وہیں پہ آ کے بسے ہیں جہاں کے تھے ہی نہیں تھے جس کا مرکزی کردار ایک عمر تلک پتہ چلا کہ اسی داستاں کے تھے ہی نہیں سفر سے لوٹ کے حیرت ہوئی پرندے کو یہ خار و خس تو مرے آشیاں کے تھے ہی نہیں ہر ایک رنگ میں دیکھا ہے اس کو آنکھوں نے یہ رنگ پہلے کبھی ...

    مزید پڑھیے

    کسی تخلیق کے پیکر میں آنا چاہتا ہوں

    کسی تخلیق کے پیکر میں آنا چاہتا ہوں تصور ہوں کہیں اپنا ٹھکانہ چاہتا ہوں مجھے تحسین کی جب کوئی خواہش ہی نہیں ہے تو اپنے شعر کیوں تجھ کو سنانا چاہتا ہوں مجھے تجھ سے شکایت بھی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے تجھے اے زندگی میں والہانہ چاہتا ہوں اسی خاطر تو یہ صنف سخن میں نے چنی ہے کہ جو محسوس ...

    مزید پڑھیے

    شکایت مجھ سے یہ اکثر در و دیوار کرتے ہیں

    شکایت مجھ سے یہ اکثر در و دیوار کرتے ہیں کہ اب اس گھر سے سناٹے بہت بیزار کرتے ہیں ضرورت ہاتھ پھیلانے پہ جب مجبور کرتی ہے تو کس مشکل سے اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں اگر یہ بات ہے جینا پڑے گا تیری شرطوں پر تو پھر اے زندگی جینے سے ہم انکار کرتے ہیں

    مزید پڑھیے

    بجھا کے مجھ میں مجھے بے کراں بناتا ہے

    بجھا کے مجھ میں مجھے بے کراں بناتا ہے وہ اک عمل جو شرر کو دھواں بناتا ہے نہ جانے کتنی اذیت سے خود گزرتا ہے یہ زخم تب کہیں جا کر نشاں بناتا ہے میں وہ شجر بھی کہاں جو الجھ کے سورج سے مسافروں کے لیے سائباں بناتا ہے تو آسماں سے کوئی بادلوں کی چھت لے آ برہنہ شاخ پہ کیا آشیاں بناتا ...

    مزید پڑھیے

    بہت دنوں سے مرے بام و در کا حصہ ہے

    بہت دنوں سے مرے بام و در کا حصہ ہے مری طرح یہ اداسی بھی گھر کا حصہ ہے پھر اس کے بعد ہوا اور اس کا رحم و کرم ابھی تلک تو یہ پتا شجر کا حصہ ہے ضرور دل سے کوئی رابطہ ہے آنکھوں کا اسی لیے تو لہو چشم تر کا حصہ ہے یہ تیرا تاج نہیں ہے ہماری پگڑی ہے یہ سر کے ساتھ ہی اترے گی سر کا حصہ ہے نہ ...

    مزید پڑھیے

    نئی مشکل کوئی درپیش ہر مشکل سے آگے ہے

    نئی مشکل کوئی درپیش ہر مشکل سے آگے ہے سفر دیوانگی کا عشق کی منزل سے آگے ہے مجھے کچھ دیر میں پھر یہ کنارا چھوڑ دینا ہے میں کشتی ہوں سفر میرا ہر اک ساحل سے آگے ہے کھڑے ہیں سانس روکے سب تماشہ دیکھنے والے کہ اب مظلوم بس کچھ ہی قدم قاتل سے آگے ہے مجھے اب روح تک اک درد سا محسوس ہوتا ...

    مزید پڑھیے

    اس انتشار کا کوئی اثر بھی ہے کہ نہیں

    اس انتشار کا کوئی اثر بھی ہے کہ نہیں تجھے زوال کی اپنے خبر بھی ہے کہ نہیں کہیں فریب نہ دیتی ہوں مل کے کچھ موجیں جہاں تو ڈوب رہا ہے بھنور بھی ہے کہ نہیں یقین کرنے سے پہلے پتہ لگا تو سہی کہ تیرے دل کی صدا معتبر بھی ہے کہ نہیں یہ روز اپنے تعاقب میں در بدر پھرنا بتا مسافت ہستی سفر ...

    مزید پڑھیے

    یہ تم ہر بات لفظوں کی زبانی کیوں سمجھتے ہو

    یہ تم ہر بات لفظوں کی زبانی کیوں سمجھتے ہو سکوت لب کو آخر بے معانی کیوں سمجھتے ہو یہ ممکن ہے یہیں تک ہو تمہاری تاب بینائی نظر کی حد کو آخر بے کرانی کیوں سمجھتے ہو اگر سچ ہے تمہاری موت کا اک دن معین ہے تو پھر اس طے شدہ کو ناگہانی کیوں سمجھتے ہو یقیں رکھو سمندر کی سخاوت پر یقیں ...

    مزید پڑھیے

    نہ چشم تر بتاتی ہے نہ زخم سر بتاتے ہیں

    نہ چشم تر بتاتی ہے نہ زخم سر بتاتے ہیں وہ اک روداد جو سہمے ہوئے یہ گھر بتاتے ہیں میں اپنے آنسوؤں پر اس لئے قابو نہیں رکھتا کہ میرے دل کی حالت مجھ سے یہ بہتر بتاتے ہیں انہیں دل کی صداؤں پر بھلا کیسے یقیں ہوگا یہ آنکھیں تو وہی سنتی ہیں جو منظر بتاتے ہیں یقیناً پھر کسی نے جرأت ...

    مزید پڑھیے

    صدائے دل نہ کہیں دھڑکنوں میں گم ہو جائے

    صدائے دل نہ کہیں دھڑکنوں میں گم ہو جائے یہ قافلہ نہ کہیں راستوں میں گم ہو جائے یہ دل کا درد جو آنکھوں میں آ گیا ہے مری میں چاہتا تھا مرے قہقہوں میں گم ہو جائے تجھے خبر بھی ہے یہ بے حسوں کی بستی ہے تری صدا نہ کہیں پتھروں میں گم ہو جائے میں خود کو ڈھونڈھنے نکلا تو کھو گیا جیسے نکل ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3