Khushbir Singh Shaad

خوشبیر سنگھ شادؔ

اہم ترین معاصر شاعروں میں شامل، عوامی مقبولیت بھی حاصل

One of the most prominent contemporary poets, also having popular appeal.

خوشبیر سنگھ شادؔ کی غزل

    سمندر یہ تری خاموشیاں کچھ اور کہتی ہیں

    سمندر یہ تری خاموشیاں کچھ اور کہتی ہیں مگر ساحل پہ ٹوٹی کشتیاں کچھ اور کہتی ہیں ہمارے شہر کی آنکھوں نے منظر اور دیکھا تھا مگر اخبار کی یہ سرخیاں کچھ اور کہتی ہیں ہم اہل شہر کی خواہش کہ مل جل کر رہیں لیکن امیر شہر کی دلچسپیاں کچھ اور کہتی ہیں

    مزید پڑھیے

    چشم حیرت سارے منظر ایک جیسے ہو گئے

    چشم حیرت سارے منظر ایک جیسے ہو گئے دیکھ لے صحرا سمندر ایک جیسے ہو گئے جاگتی آنکھوں کو میری بارہا دھوکا ہوا خواب اور تعبیر اکثر ایک جیسے ہو گئے وقت نے ہر ایک چہرہ ایک جیسا کر دیا آرزو کے سارے پیکر ایک جیسے ہو گئے جب سے ہم کو ٹھوکریں کھانے کی عادت ہو گئی راستوں کے سارے پتھر ایک ...

    مزید پڑھیے

    وحشتیں بھی کتنی ہیں آگہی کے پیکر میں

    وحشتیں بھی کتنی ہیں آگہی کے پیکر میں جل رہا ہے سورج بھی روشنی کے پیکر میں رات میری آنکھوں میں کچھ عجیب چہرے تھے اور کچھ صدائیں تھیں خامشی کے پیکر میں ہر طرف سرابوں کے کچھ حسین منظر تھے اور میں بھی حیراں تھا تشنگی کے پیکر میں میں نے تو تصور میں اور عکس دیکھا تھا فکر مختلف کیوں ...

    مزید پڑھیے

    رفتہ رفتہ منظر شب تاب بھی آ جائیں گے

    رفتہ رفتہ منظر شب تاب بھی آ جائیں گے نیند تو آ جائے پہلے خواب بھی آ جائیں گے کیا پتہ تھا خون کے آنسو رلا دیں گے مجھے اس کہانی میں کچھ ایسے باب بھی آ جائیں گے خشک آنکھوں نے تو شاید یہ کبھی سوچا نہ تھا ایک دن صحراؤں میں سیلاب بھی آ جائیں گے حوصلے یوں ہی اگر بڑھتے گئے تو ...

    مزید پڑھیے

    ہوا کے پر کترنا اب ضروری ہو گیا ہے

    ہوا کے پر کترنا اب ضروری ہو گیا ہے مرا پرواز بھرنا اب ضروری ہو گیا ہے مرے اندر کئی احساس پتھر ہو رہے ہیں یہ شیرازہ بکھرنا اب ضروری ہو گیا ہے میں اکثر زندگی کے ان مراحل سے بھی گزرا جہاں لگتا تھا مرنا اب ضروری ہو گیا ہے مری خاموشیاں اب مجھ پہ حاوی ہو رہی ہیں کہ کھل کر بات کرنا اب ...

    مزید پڑھیے

    کئی نا آشنا چہرے حجابوں سے نکل آئے

    کئی نا آشنا چہرے حجابوں سے نکل آئے نئے کردار ماضی کی کتابوں سے نکل آئے ہم اپنے گھر میں بھی اب بے سر و ساماں سے رہتے ہیں ہمارے سلسلے خانہ خرابوں سے نکل آئے ہمیں سیراب کرنے کے لیے دریا مچلتے تھے مگر یہ پیاس کے رشتے سرابوں سے نکل آئے چلو اچھا ہوا آخر تمہاری نیند بھی ٹوٹی چلو اچھا ...

    مزید پڑھیے

    پرندے بے خبر تھے سب پناہیں کٹ چکی ہیں

    پرندے بے خبر تھے سب پناہیں کٹ چکی ہیں سفر سے لوٹ کر دیکھا کہ شاخیں کٹ چکی ہیں لرز جاتا ہوں اب تو ایک جھونکے سے بھی اکثر میں وہ خیمہ ہوں جس کی سب طنابیں کٹ چکی ہیں بہت بے ربط رہنے کا یہ خمیازہ ہے شاید کہ منزل سامنے ہے اور راہیں کٹ چکی ہیں ہمیں تنہائی کے موسم کی عادت پڑ چکی ہے کہ اس ...

    مزید پڑھیے

    اب اندھیروں میں جو ہم خوف زدہ بیٹھے ہیں

    اب اندھیروں میں جو ہم خوف زدہ بیٹھے ہیں کیا کہیں خود ہی چراغوں کو بجھا بیٹھے ہیں بس یہی سوچ کے تسکین سی ہو جاتی ہے اور کچھ لوگ بھی دنیا سے خفا بیٹھے ہیں دیکھ لے جان وفا آج تری محفل میں ایک مجرم کی طرح اہل وفا بیٹھے ہیں ایک ہم ہیں کہ پرستش پہ عقیدہ ہی نہیں اور کچھ لوگ یہاں بن کے ...

    مزید پڑھیے

    میں اپنے روبرو ہوں اور کچھ حیرت زدہ ہوں میں

    میں اپنے روبرو ہوں اور کچھ حیرت زدہ ہوں میں نہ جانے عکس ہوں چہرہ ہوں یا پھر آئنہ ہوں میں مری مجبوریاں دیکھو کہ یکجائی کے پیکر میں کسی بکھرے ہوئے احساس میں سمٹا ہوا ہوں میں مرے اندر کے موسم ہی مجھے تعمیر کرتے ہیں کبھی سیراب ہوتا ہوں کبھی صحرا نما ہوں میں جو ہے وہ کیوں ہے آخر جو ...

    مزید پڑھیے

    ایک تو قیامت ہے اس مکاں کی تنہائی

    ایک تو قیامت ہے اس مکاں کی تنہائی اس پہ مار ڈالے گی مجھ کو جاں کی تنہائی تم نے تو ستاروں کو دور ہی سے دیکھا ہے تم سمجھ نہ پاؤگے آسماں کی تنہائی وہ ادھر اکیلا تھا ہم ادھر اکیلے تھے راستے میں حائل تھی درمیاں کی تنہائی پھر وہی چراغوں کا رفتہ رفتہ بجھ جانا پھر وہی سکوت شب پھر وہ جاں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3