بس یہ ہوا کہ رشتوں کے سب ہاتھ کٹ گئے
بس یہ ہوا کہ رشتوں کے سب ہاتھ کٹ گئے ہم لوگ اپنے آپ ہی آپس میں بٹ گئے آثار ممکنات تھے جتنے وہ گھٹ گئے سورج نکل کے آیا تو کہرے بھی چھٹ گئے یہ بزدلی تھی اپنی کہ کچھ بھی نہیں کہا ہونے دیا جو ہونا تھا رستے سے ہٹ گئے ان سے تو جا کے ملنا بھی دشوار ہو گیا مصروفیت کے نام پہ ہم بھی سمٹ ...