Khurshid Sahar

خورشید سحر

خورشید سحر کی غزل

    بس یہ ہوا کہ رشتوں کے سب ہاتھ کٹ گئے

    بس یہ ہوا کہ رشتوں کے سب ہاتھ کٹ گئے ہم لوگ اپنے آپ ہی آپس میں بٹ گئے آثار ممکنات تھے جتنے وہ گھٹ گئے سورج نکل کے آیا تو کہرے بھی چھٹ گئے یہ بزدلی تھی اپنی کہ کچھ بھی نہیں کہا ہونے دیا جو ہونا تھا رستے سے ہٹ گئے ان سے تو جا کے ملنا بھی دشوار ہو گیا مصروفیت کے نام پہ ہم بھی سمٹ ...

    مزید پڑھیے

    لمحوں کی گھٹن خوف کا طوفان بہت ہے

    لمحوں کی گھٹن خوف کا طوفان بہت ہے میری ہی طرح وقت پریشان بہت ہے ہم جس کے لیے شہر سکوں چھوڑ کے آئے وہ دشت جنوں خیز بھی سنسان بہت ہے مجھ سے مری منزل کا پتہ پوچھنے والو ہر راستہ میرے لیے انجان بہت ہے ہر موڑ پہ اک کوہ گراں بن کے کھڑے ہیں ٹوٹے ہوئے لوگوں میں ابھی شان بہت ہے آباد تھے ...

    مزید پڑھیے

    جب اپنے آپ کو ملبوس میں چھپایا تھا

    جب اپنے آپ کو ملبوس میں چھپایا تھا تمام شہر کو ہم نے برہنہ پایا تھا نہ اپنی صبح کی خوشیاں نہ اپنی شام کا غم ہمارے پاس تو جو کچھ تھا وہ پرایا تھا تلاش کرتی ہے جس کو تمہاری راہ گزر وہ میں نہیں تھا مری جستجو کا سایہ تھا وہ ہنس رہا تھا مگر اشک غم نہ روک سکا ذرا سی بات پہ جس نے ہمیں ...

    مزید پڑھیے

    طے ہو سکا نہ فاصلہ لمبی اڑان سے

    طے ہو سکا نہ فاصلہ لمبی اڑان سے میں ڈھیر ہو کے رہ گیا آخر تکان سے اس بے گنہ کی چیخ نے کیا کچھ نہیں کہا پر لوگ چھپ کے دیکھ رہے تھے مکان سے طوفان صد زوال سے کشتی بچایئے خطرہ نہ ٹلنے والا ہے یہ بادبان سے رشتوں کی بھیڑ بھاڑ سے وہ بھی الگ ہوا میں بھی نجات پا گیا وہم و گمان سے جی چاہتا ...

    مزید پڑھیے

    چہرے دھواں دھواں ہیں یہ آثار دیکھ کر

    چہرے دھواں دھواں ہیں یہ آثار دیکھ کر آئینۂ خلوص شرربار دیکھ کر پھر کوئی کچھ نہ بول سکا کچھ نہ کر سکا اس بے زباں کی جرأت اظہار دیکھ کر کچھ اور تیز ہو گئی لمحوں کی سخت دھوپ ٹھہرے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر رستے میں کوئی موڑ نہ کوہ گراں ملا میں لوٹ آیا راہ کو ہموار دیکھ کر وہ ...

    مزید پڑھیے

    دعاؤں کا اپنی اثر ہر طرف

    دعاؤں کا اپنی اثر ہر طرف منور ہیں شام و سحر ہر طرف خوشی اس کے ہم راہ رخصت ہوئی اداسی گری ٹوٹ کر ہر طرف جدھر جی میں آیا ادھر چل پڑے مسافر کا ہوتا ہے گھر ہر طرف یوں ہی اپنی خوشبو اڑا چار سو ہوا کی طرح تو بکھر ہر طرف تھکے حوصلے بے صدا راستے تباہی کا لمبا سفر ہر طرف اندھیرے سحرؔ تا ...

    مزید پڑھیے

    رگوں میں زہر کا نشتر چبھو دیا میں نے

    رگوں میں زہر کا نشتر چبھو دیا میں نے نہ راس آیا جو ہنسنا تو رو دیا میں نے کہیں پہ کوئی مرا عکس ہی نہیں ملتا کس انتشار میں خود کو ڈبو دیا میں نے تم اپنے خواب کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لینا متاع جاں کی تمنا تو کھو دیا میں نے وہ روز میری انا کو ذلیل کرتا تھا اسے بھی اپنے لہو میں ڈبو دیا ...

    مزید پڑھیے