Khurshid Sahar

خورشید سحر

خورشید سحر کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    بس یہ ہوا کہ رشتوں کے سب ہاتھ کٹ گئے

    بس یہ ہوا کہ رشتوں کے سب ہاتھ کٹ گئے ہم لوگ اپنے آپ ہی آپس میں بٹ گئے آثار ممکنات تھے جتنے وہ گھٹ گئے سورج نکل کے آیا تو کہرے بھی چھٹ گئے یہ بزدلی تھی اپنی کہ کچھ بھی نہیں کہا ہونے دیا جو ہونا تھا رستے سے ہٹ گئے ان سے تو جا کے ملنا بھی دشوار ہو گیا مصروفیت کے نام پہ ہم بھی سمٹ ...

    مزید پڑھیے

    لمحوں کی گھٹن خوف کا طوفان بہت ہے

    لمحوں کی گھٹن خوف کا طوفان بہت ہے میری ہی طرح وقت پریشان بہت ہے ہم جس کے لیے شہر سکوں چھوڑ کے آئے وہ دشت جنوں خیز بھی سنسان بہت ہے مجھ سے مری منزل کا پتہ پوچھنے والو ہر راستہ میرے لیے انجان بہت ہے ہر موڑ پہ اک کوہ گراں بن کے کھڑے ہیں ٹوٹے ہوئے لوگوں میں ابھی شان بہت ہے آباد تھے ...

    مزید پڑھیے

    جب اپنے آپ کو ملبوس میں چھپایا تھا

    جب اپنے آپ کو ملبوس میں چھپایا تھا تمام شہر کو ہم نے برہنہ پایا تھا نہ اپنی صبح کی خوشیاں نہ اپنی شام کا غم ہمارے پاس تو جو کچھ تھا وہ پرایا تھا تلاش کرتی ہے جس کو تمہاری راہ گزر وہ میں نہیں تھا مری جستجو کا سایہ تھا وہ ہنس رہا تھا مگر اشک غم نہ روک سکا ذرا سی بات پہ جس نے ہمیں ...

    مزید پڑھیے

    طے ہو سکا نہ فاصلہ لمبی اڑان سے

    طے ہو سکا نہ فاصلہ لمبی اڑان سے میں ڈھیر ہو کے رہ گیا آخر تکان سے اس بے گنہ کی چیخ نے کیا کچھ نہیں کہا پر لوگ چھپ کے دیکھ رہے تھے مکان سے طوفان صد زوال سے کشتی بچایئے خطرہ نہ ٹلنے والا ہے یہ بادبان سے رشتوں کی بھیڑ بھاڑ سے وہ بھی الگ ہوا میں بھی نجات پا گیا وہم و گمان سے جی چاہتا ...

    مزید پڑھیے

    چہرے دھواں دھواں ہیں یہ آثار دیکھ کر

    چہرے دھواں دھواں ہیں یہ آثار دیکھ کر آئینۂ خلوص شرربار دیکھ کر پھر کوئی کچھ نہ بول سکا کچھ نہ کر سکا اس بے زباں کی جرأت اظہار دیکھ کر کچھ اور تیز ہو گئی لمحوں کی سخت دھوپ ٹھہرے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر رستے میں کوئی موڑ نہ کوہ گراں ملا میں لوٹ آیا راہ کو ہموار دیکھ کر وہ ...

    مزید پڑھیے

تمام