Khursheed Rizvi

خورشید رضوی

خورشید رضوی کے تمام مواد

50 غزل (Ghazal)

    یہ جام و بادہ و مینا تو سب دلاسے ہیں

    یہ جام و بادہ و مینا تو سب دلاسے ہیں لبوں کو دیکھ وہی عمر بھر کے پیاسے ہیں کرو جو یاد تو ہم سے بھی نسبتیں ہیں تمہیں وہ نسبتیں جو کف پا کو نقش پا سے ہیں ذرا میں زخم لگائے ذرا میں دے مرہم بڑے عجیب روابط مرے صبا سے ہیں ترے بغیر بھی کٹتی رہی ذرا نہ رکی شکایتیں مجھے عمر گریز پا سے ...

    مزید پڑھیے

    فصیل ذات گری قید سے رہا ہوئے ہم

    فصیل ذات گری قید سے رہا ہوئے ہم خیال غیر کی وسعت سے آشنا ہوئے ہم حصار لفظ میں آتا نہ تھا ملال دروں زبان حال سے آخر کہیں ادا ہوئے ہم نظر کریں وہ جو دل پر تو ہیں وہی کے وہی کبھی جو آئنہ دیکھیں تو کیا سے کیا ہوئے ہم چمن میں کھینچ کے لائی تھی جستجو جن کی وہ نکہتیں نہیں باقی تو لو ہوا ...

    مزید پڑھیے

    دن گزرتے رہے سانسوں میں تھکن آتی رہی

    دن گزرتے رہے سانسوں میں تھکن آتی رہی دل میں اڑ اڑ کے وہی گرد محن آتی رہی تھک گئے عرصۂ احساس میں چلتے چلتے راہ میں حسرت کوتاہیٔ فن آتی رہی بس دریچے سے لگے بیٹھے رہے اہل سفر سبزہ جلتا رہا اور یاد وطن آتی رہی گلشن دہر میں کچھ بوئے وفا باقی ہے کہ خزاں میں بھی صبا سوئے چمن آتی ...

    مزید پڑھیے

    گرتے ہوئے بدن کا نگر چھوڑ جاؤں گا

    گرتے ہوئے بدن کا نگر چھوڑ جاؤں گا گھبرا کے دستکوں سے یہ گھر چھوڑ جاؤں گا میں عین زندگی ہوں ٹھہرنا نہیں مجھے سب منظروں کو مثل نظر چھوڑ جاؤں گا خود خاک ہو کے گرد سفر میں رہوں گا اور ان بستیوں میں ذوق سفر چھوڑ جاؤں گا ہوگا نہ سوگوار مرے واسطے کوئی جلتا ہوا دیا ہوں سحر چھوڑ جاؤں ...

    مزید پڑھیے

    ملتا ہی نہیں درد کا پیکر کوئی مجھ سا

    ملتا ہی نہیں درد کا پیکر کوئی مجھ سا آئینے میں اک شخص ہے کمتر کوئی مجھ سا ایمان بھی تنہا ہے مرا کفر بھی تنہا مومن کوئی مجھ سا ہے نہ کافر کوئی مجھ سا ہے کون جو اس ابر کے پردے میں رواں ہے دیوانہ ہے دیوانہ سراسر کوئی مجھ سا کہسار کے دامن میں ملاتا ہے نہاں کون آواز سے آواز برابر ...

    مزید پڑھیے

تمام

15 نظم (Nazm)

    چند لمحے

    چند لمحے جنہیں اک لغزش پا نے میری کہیں ماضی کے اندھیروں میں کچل ڈالا تھا چوٹ کھائی ہوئی ناگن کی طرح لہرا کر میرے احساس کے ہر گوشے پہ چھا جاتے ہیں میری آنکھوں سے مے خواب اڑا جاتے ہیں رات بھر کے لیے دیوانہ بنا جاتے ہیں خون ہو جاتا ہے جب سوزش پنہاں سے بھڑکتا ہوا دل تیرنے لگتا ہے رگ ...

    مزید پڑھیے

    ایک خواب

    ساتھ اگر تم ہو تو پھر ہم ہنستے ہنستے چلتے چلتے دور آکاش کی حد تک جائیں کالی کالی سی دلدل سے تپتا تانبا پھوٹ رہا ہو مکڑی کے جالے کا فیتہ کاٹ کے ہم اس باغ میں جائیں جس میں کوئی کبھی نہ گیا ہو کوکنار کے پھول کھلے ہوں بھونرے ان کو چوم رہے ہوں پتھر سے پانی چلتا ہو میں پانی کا چلو بھر ...

    مزید پڑھیے

    ایک پیدل چلنے والے دوست کا نوحہ

    ہجوم سے بچ کے سونے سونے خموش رستوں پہ چلنے والا وہ اس زمانے میں پا پیادہ مسافرت کا امین رستہ بدل چکا ہے نظر عبث اس کا نقش مانوس راستوں پر تلاش کر کے چونکتی ہے مجھے خبر ہے وہ جا چکا ہے وہ جا بجا راہ میں ابھرتی شبیہ اس کی نگاہ کی تشنگی نے مثل سراب ایجاد کر رکھی ہے جب آخری بار اس کو ...

    مزید پڑھیے

    سبز سے سفید میں آنے کا غم

    نظر اٹھاؤں تو سنگ مرمر کی کور بے حس سفید آنکھیں نظر جھکاؤں تو شیر قالین گھورتا ہے مرے لیے اس محل میں آسودگی نہیں ہے کوئی مجھے ان سفید پتھر کے گنبدوں سے رہا کرائے میں اک صدا ہوں مگر یہاں گنگ ہو گیا ہوں مرے لیے تو انہیں درختوں کے سبز گنبد میں شانتی تھی جہاں مری بات گونجتی تھی

    مزید پڑھیے

    محاسبہ

    ہوا کہیں نام کو نہیں تھی اذان مغرب سے دن کی پسپا سپاہ کا دل دھڑک رہا تھا تمام رنگوں کے امتیازات مٹ چکے تھے ہر ایک شے کی سیہ قبا تھی جگہ جگہ بام و در کے پیکر افق کے رنگین چوکھٹے میں مثال تصویر جم گئے تھے شجر حجر سب کے سب گریباں میں سر جھکائے محاسبہ کر رہے تھے دن بھر کے نیک و بد ...

    مزید پڑھیے

تمام