Khursheed Hayat

خورشید حیات

ستر کی دھائی کے اہم افسانہ نگاروں میں شامل، اپنے افسانوں میں غیر روایتی خٰیالات کے لئے جانے جاتے ہیں۔

One of the important short story writers to emerge in the 70s; known for his iconoclasm.

خورشید حیات کی رباعی

    آدم خور

    کہانی تو ہم سب کے اندر سمندر کی لہروں کی طرح ابھرتی ڈوبتی رہتی ہے ۔ سمندر میں میں ہوں / مجھ میں سمندر / بارش کی بوندیں سمندر میں / اور سمندر بارش کی بوندوں میں / مجھے قریب سے دیکھو / پہچانو / ابھرتی ڈوبتی لہریں تم سے کیا کہہ رہی ہیں ؟ آدمی ، سانپ سے بھی زہریلا آدمی - آدمی ، ہرے بھرے ...

    مزید پڑھیے

    تتلی سہیلی حویلی

    رْوح کی انگنائی میں / حنائی رنگ ساعتوں میں / نرم انْگلیوں کے پوروں پر / پھول– خوشبو منظر لکھ / پھْر سے اْڑ گئی تتلی ۔پہلی بار جب اْس نے اْسے دیکھا تھا تو ایک خواب نے پرندوں کی طرح اپنے پر پھیلائے تھے ۔اْسے محسوس ہوا کہ اب وہ زندگی کی راہ کے آخری چھْور تک صرف اْسی کا ہو کر رہ جانے ...

    مزید پڑھیے

    پانچ اُنگلیاں

    میری بیٹیاں بغل میں لیٹی ہیں، خوبصورت سی، پیاری پیاری۔ نرم ہتھیلیاں، چھوٹی بڑی انگلیاں۔ بیٹیاں گھروں میں چڑیوں کی طرح چہکتی ہیں۔ ان کی دلکش آوازیں گاؤں میں ندیوں کی طرح بہتی ہیں۔ انھیں دیکھ کر دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ رحمن ان ہاتھوں کوڈاکٹر کے ہاتھ بنانا جو مفت میں غریبوں کا ...

    مزید پڑھیے

    پہاڑ، ندی، عورت

    سامنے والی برتھ پر بیٹھی وہ، اپنی انگلیوں میں پھنسے برش سے، کینوس پر اتر آئے الگ الگ رنگوں میں بہت پیچھے کی طرف چھوٹتی ہوئی زندگی کے ان گلیاروں کو ڈھونڈ رہی تھی جہاں اٹکن چٹکن دہی چٹاکن کا کھیل تو تھا مگر لکیریں نہیں تھیں۔ بے چینی کے عالم میں اس نے HA-1 کوچ کی کھڑکی سے سرمئی بادلوں ...

    مزید پڑھیے

    خبر ہونے تک

    میں نے جب کبھی حقیقت کا سامنا کرنا چاہا ہے تو خود کو اپاہج محسوس کیا ہے۔ انسان، کتنا بے بس ہے، وقت کے ہاتھوں کا کھلونا، اس پر یہ تیور کہ میں انقلاب لا سکتا ہوں۔ زندگی تیز رفتار سے چلتی رہتی ہے اور انسان خواب اور حقیقت کے دو راہے سے گذرتارہتا ہے۔ کبھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ ہر خواب ...

    مزید پڑھیے

    آنگن میرے گھر کا

    نام تو اس کا جمیلہ تھا مگر محلّے کی ساری عورتیں اسے پیار سے جمالو پکارا کرتی تھیں ۔ وہ آج بہت تھکی تھکی سی تھی ، دفتر سے آتے ہی اس نے اپنی بھیگی بھیگی سی تھکن کو باہر الگنی پر ٹانگ دیا اور ریشمی بستر کو چھوڑ ، فرش پر پسر گئی ۔ گھر میں پھیلے سّناٹا نے جب اسے دیکھا تو گلہری کے سہمے ...

    مزید پڑھیے

    چھالیا

    ۔۔۔۔ خْورشید حیات ۔۔۔۔ زمین سے لے کر آسمانوں تک کے دْھواں دْھواں منظر کو دیکھ جب وہ مضطرب ہو جاتی ، اور رات ایک انجانے خوف سے سہمے ہوئے گزر جاتی ۔ تب ہوتا یہ تھا کہ اْس کی بوجھل آنکھوں میں صْبح کی سپیدی اتْر آتی تھی اور شام اْداس اْداس سی سیاہ رنگت لئے رات کی سیاہی سے جا ملتی تھی ...

    مزید پڑھیے

    ایڈز

    اور پھر وہ دن بھی آیا ---- جب مجھے اپنا گاؤں ، اپنا شہر اور اپنا ملک چھوڑنا تھا - جیسے جیسے ہوائی جہاز کی روانگی کا وقت قریب آ رہا تھا - میری تو جیسے جان ہی نکلی جا رہی تھی - میں نے اندر سے ٹوٹے پھوٹے ، بکھرے ہوئے اور اوپر سے صحیح و سالم جسم کے اندر دھڑکتے ہوئے دل کو سمجھایا , پھر اپنے ...

    مزید پڑھیے

    سورج ابھی جاگ رہا ہے

    اکتوبر کی ایک شام تھی۔ میں دفتر سے چھوٹتے ہی گھر جانے کے لئے باہر نکلا ہی تھا کہ تیز آندھی چلنے لگی۔ آندھی کیوں آتی ہے نغمہ ؟ آندھی کا اس زمین سے کیا رشتہ ہے ؟ تم بھی کیسے آدمی ہو ؟ زندگی کی اتنی منزلیں طے کرچکے،اور اس طرح کا سوال پوچھتے ہو۔اس طرح کا سوال تمہاری زبان سے اچھا نہیں ...

    مزید پڑھیے