آدم خور
کہانی تو ہم سب کے اندر سمندر کی لہروں کی طرح ابھرتی ڈوبتی رہتی ہے ۔ سمندر میں میں ہوں / مجھ میں سمندر / بارش کی بوندیں سمندر میں / اور سمندر بارش کی بوندوں میں / مجھے قریب سے دیکھو / پہچانو / ابھرتی ڈوبتی لہریں تم سے کیا کہہ رہی ہیں ؟ آدمی ، سانپ سے بھی زہریلا آدمی - آدمی ، ہرے بھرے ...