Khursheed Ahmad

خورشید احمد

خورشید احمد کی نظم

    ہر شجر جاگ اٹھا

    گھنٹیاں بجنے لگیں ڈھور چلتے کھیتوں کو راستے جاگ اٹھے ساری فضا جاگ اٹھی صبح کاذب کے دھندلکوں میں اجالے چھٹکے ہر شجر جاگ اٹھا باد صبا جاگ اٹھی اپنے شانوں پہ سجائے ہوئے عظمت کے نشاں اپنے کھیتوں کی منڈیروں کے نگہبان چلے جن سے تہذیب کے گوشوں نے جلا پائی ہے ان ضیا بار سویروں کے نگہبان ...

    مزید پڑھیے