ہر شجر جاگ اٹھا
گھنٹیاں بجنے لگیں ڈھور چلتے کھیتوں کو راستے جاگ اٹھے ساری فضا جاگ اٹھی صبح کاذب کے دھندلکوں میں اجالے چھٹکے ہر شجر جاگ اٹھا باد صبا جاگ اٹھی اپنے شانوں پہ سجائے ہوئے عظمت کے نشاں اپنے کھیتوں کی منڈیروں کے نگہبان چلے جن سے تہذیب کے گوشوں نے جلا پائی ہے ان ضیا بار سویروں کے نگہبان ...