موسم گل یہ تری زرد صحافت کیسی
موسم گل یہ تری زرد صحافت کیسی پھول معصوم ہیں پھولوں سے سیاست کیسی اس نے دلدل کے قریں چھوڑ دی انگلی میری خضر کہلاتا ہے کرتا ہے قیادت کیسی جیسے اس بار ہواؤں میں لگی ہو دیمک ہو رہی ہے مری سانسوں کی کفالت کیسی میں جہاں بھی رہوں یہ ڈھونڈ نکالے گی مجھے جانتا ہوں کہ ہے مٹی کی بصارت ...