Khursheed Ahmad Malik

خورشید احمد ملک

خورشید احمد ملک کی غزل

    موسم گل یہ تری زرد صحافت کیسی

    موسم گل یہ تری زرد صحافت کیسی پھول معصوم ہیں پھولوں سے سیاست کیسی اس نے دلدل کے قریں چھوڑ دی انگلی میری خضر کہلاتا ہے کرتا ہے قیادت کیسی جیسے اس بار ہواؤں میں لگی ہو دیمک ہو رہی ہے مری سانسوں کی کفالت کیسی میں جہاں بھی رہوں یہ ڈھونڈ نکالے گی مجھے جانتا ہوں کہ ہے مٹی کی بصارت ...

    مزید پڑھیے

    درد کا کیسا رشتہ ہے شہنائی سے

    درد کا کیسا رشتہ ہے شہنائی سے لاڈلی بیٹی پوچھ رہی ہے مائی سے شادابی زخموں میں کیسے آئے گی ان بن ٹھہری ہے میری پروائی سے آنکھوں کے پیالے میں دنیا رہتی ہے اس کو دیکھوں گا من کی بینائی سے دشت کی جانب نکلا ہے پھر اس کے ساتھ یوسف دھوکہ کھائے گا پھر بھائی سے اپنے اندر کافی ڈوب چکا ...

    مزید پڑھیے

    کیا کیا نہ دوستی کے جنازے اٹھائے ہیں

    کیا کیا نہ دوستی کے جنازے اٹھائے ہیں تھک ہار کر عدو کے علاقے میں آئے ہیں آ دیکھ زندگی تری عزت کے واسطے زخمی لبوں سے ہم نے تبسم لٹائے ہیں کس سے کریں سوال کے آوا بھی چاہیے ہم نے بھی چاک پر کئی کوزے بنائے ہیں تیزاب چھڑکے جائیں گے روئے گلاب پر سنتے ہیں گلستاں میں وہ تشریف لائے ...

    مزید پڑھیے

    محاسبہ کیا نہ جائے اس میں کس کا کیا گیا

    محاسبہ کیا نہ جائے اس میں کس کا کیا گیا نہ مجھ سے ہی رہا گیا نہ اس سے کچھ سہا گیا یہ دل سے دل کا واسطہ بھی کتنا دل فریب ہے جگی ہے دل میں روشنی کہ تیرا درد بھا گیا یہ کس کے نقش پا پہ سب نے اعتبار کر لیا یہ کون پیش رو بنا کہ راستہ بنا گیا نظر ملا کے اس سے میری بات تک نہیں ہوئی مرے ...

    مزید پڑھیے

    اے مرے دل تجھے پتہ ہے کیا

    اے مرے دل تجھے پتہ ہے کیا وہ ترے غم سے آشنا ہے کیا مجھ میں ماتم کا شور کیسا ہے میرے اندر کوئی مرا ہے کیا سب سے ہنس کے گلے جو ملتا ہے شہر میں وہ نیا نیا ہے کیا زندگی دھو کے روز پیتا ہوں اور پینے کو کچھ بچا ہے کیا قصۂ دل رقم کروں کیسے عشق ہے کوئی سانحہ ہے کیا پھل کوئی ہاتھ کیوں ...

    مزید پڑھیے