Khayal Ansari

خیال انصاری

خیال انصاری کی نظم

    قدرت اور نعمت

    جل تھل ہوا ہے آنگن برسا ہے خوب پانی کاغذ کی ایک کشتی ہم کو بنا دو باجی کشتی پہ بیٹھ کر ہم نکلیں گے سیر کرنے دیکھیں گے باغ سارا وہ دل فریب جھرنے تازہ ہوا کا جھونکا کلیوں کا مسکرانا وہ بھینی بھینی خوشبو پھولوں کا دل لبھانا سبزے پہ بکھری شبنم شاخوں کا جھول جانا اڑتی پری سی ...

    مزید پڑھیے

    امن کا تہوار

    کل جو سپنے تھے ادھورے آج پورے ہوں گے وہ آج ہم جمہوریت کا گیت گائیں گے ضرور امن کی شمعیں جلیں ہر سو اجالا ہو گیا مٹ گئے ہیں ظلم کی تاریکیوں کے سب غرور کہہ دو ساری ظلمتوں سے تلخیوں سے ہوں وہ دور کیوں کہ ارزاں ہو گئی ہے دہر میں صہبائے نور آج پھر تاریکیوں کے مٹ ہی جائیں گے نشاں دیپ ...

    مزید پڑھیے