قدرت اور نعمت
جل تھل ہوا ہے آنگن برسا ہے خوب پانی کاغذ کی ایک کشتی ہم کو بنا دو باجی کشتی پہ بیٹھ کر ہم نکلیں گے سیر کرنے دیکھیں گے باغ سارا وہ دل فریب جھرنے تازہ ہوا کا جھونکا کلیوں کا مسکرانا وہ بھینی بھینی خوشبو پھولوں کا دل لبھانا سبزے پہ بکھری شبنم شاخوں کا جھول جانا اڑتی پری سی ...