Khayal Ansari

خیال انصاری

خیال انصاری کے تمام مواد

2 نظم (Nazm)

    قدرت اور نعمت

    جل تھل ہوا ہے آنگن برسا ہے خوب پانی کاغذ کی ایک کشتی ہم کو بنا دو باجی کشتی پہ بیٹھ کر ہم نکلیں گے سیر کرنے دیکھیں گے باغ سارا وہ دل فریب جھرنے تازہ ہوا کا جھونکا کلیوں کا مسکرانا وہ بھینی بھینی خوشبو پھولوں کا دل لبھانا سبزے پہ بکھری شبنم شاخوں کا جھول جانا اڑتی پری سی ...

    مزید پڑھیے

    امن کا تہوار

    کل جو سپنے تھے ادھورے آج پورے ہوں گے وہ آج ہم جمہوریت کا گیت گائیں گے ضرور امن کی شمعیں جلیں ہر سو اجالا ہو گیا مٹ گئے ہیں ظلم کی تاریکیوں کے سب غرور کہہ دو ساری ظلمتوں سے تلخیوں سے ہوں وہ دور کیوں کہ ارزاں ہو گئی ہے دہر میں صہبائے نور آج پھر تاریکیوں کے مٹ ہی جائیں گے نشاں دیپ ...

    مزید پڑھیے