عہد رفتہ کی حکایت کربلا سے کم نہ تھی
عہد رفتہ کی حکایت کربلا سے کم نہ تھی زندگانی نسل آدم پر بلا سے کم نہ تھی خون کے دریا کی لہروں میں بشر غرقاب تھا وقت کی رفتار گویا بد دعا سے کم نہ تھی پھر رہے تھے حکمراں کشکول لے کر در بدر بندگی کی ظاہری صورت گدا سے کم نہ تھی ہر طرف خونیں بھنور ہر سمت چیخوں کے عذاب موج گل بھی اب کے ...