Khayal Amrohvi

خیال امروہوی

  • 1930 - 2009

خیال امروہوی کی غزل

    عہد رفتہ کی حکایت کربلا سے کم نہ تھی

    عہد رفتہ کی حکایت کربلا سے کم نہ تھی زندگانی نسل آدم پر بلا سے کم نہ تھی خون کے دریا کی لہروں میں بشر غرقاب تھا وقت کی رفتار گویا بد دعا سے کم نہ تھی پھر رہے تھے حکمراں کشکول لے کر در بدر بندگی کی ظاہری صورت گدا سے کم نہ تھی ہر طرف خونیں بھنور ہر سمت چیخوں کے عذاب موج گل بھی اب کے ...

    مزید پڑھیے