خاور اعجاز کی غزل

    مکاں نزدیک ہے یا لا مکاں نزدیک پڑتا ہے

    مکاں نزدیک ہے یا لا مکاں نزدیک پڑتا ہے کہیں آ جاؤ مجھ کو ہر جہاں نزدیک پڑتا ہے جہاں تم ہو وہاں سے دور پڑتی ہے زمیں میری جہاں میں ہوں وہاں سے آسماں نزدیک پڑتا ہے سنا ہے اک جہان بے نہایت ہو مگر پھر بھی یہ طے ہے بیکراں کو بے کراں نزدیک پڑتا ہے چلے آتے ہیں ہم اک دوسرے کی سمت میں ...

    مزید پڑھیے

    مجھے اس خواب نے اک عرصہ تک بے تاب رکھا ہے

    مجھے اس خواب نے اک عرصہ تک بے تاب رکھا ہے اک اونچی چھت ہے اور چھت پر کوئی مہتاب رکھا ہے کسی کے واسطے تازہ کناروں کو ابھارا اور مجھے صدیوں پرانے شوق میں غرقاب رکھا ہے جزیرے اور ساحل سب زمانے کے لیے رکھے مرا سارا علاقہ اس نے زیر آب رکھا ہے ستون شوق پر اک روشنی سی پڑ رہی ہے جو چراغ ...

    مزید پڑھیے

    جب ایک بار کسی انتہا پہ جا ٹھہرے

    جب ایک بار کسی انتہا پہ جا ٹھہرے پھر اس کے بعد نظر راستوں میں کیا ٹھہرے سفر پہ نکلے تھے جب زندگی گرفت میں تھی مآل کار بس اک موجۂ ہوا ٹھہرے عجب نہیں ہے کہ برسوں کے گھپ اندھیرے میں دیا جلائیں تو منظر ہی دوسرا ٹھہرے چمک اٹھے کبھی آ کر مری ہتھیلی پر وہی ستارہ کبھی آسماں پہ جا ...

    مزید پڑھیے

    چراغ شوق جلا کر کہاں سے جانا تھا

    چراغ شوق جلا کر کہاں سے جانا تھا ہمیں تو ہو کے صف دشمناں سے جانا تھا یہ دل یہ شہر وفا کب اسے پسند آیا وہ بے قرار تھا اس کو یہاں سے جانا تھا نظر میں رکھا نہیں ایک بھی ستارہ ترا کہ خاک زاد تھے ہم آسماں سے جانا تھا کسی بہانے سہی زندگی کا قرض اترا ہمیں تو ویسے بھی اک روز جاں سے جانا ...

    مزید پڑھیے

    کہیں رکنے لگی ہے کشتئ عمر رواں شاید

    کہیں رکنے لگی ہے کشتئ عمر رواں شاید زمیں چھونے لگی ہے اب کے حد آسماں شاید مجھے اس نے طلب فرمایا ہے میدان ہستی سے اسے پھر یاد آیا ہے کوئی کار جہاں شاید ابھرتی آ رہی ہے ایک دنیا اور ہی کوئی مکاں کے ساتھ ملتا جا رہا ہے لا مکاں شاید بدل دیکھوں چراغ شوق سے میں بھی چراغ اپنا مرے گھر ...

    مزید پڑھیے

    زمیں کے ہاتھ میں ہوں اور نہ آسمان کے ہی

    زمیں کے ہاتھ میں ہوں اور نہ آسمان کے ہی پڑا ہوا ہوں میں ایسی جگہ پہ جان کے ہی نہ ہم سے کہتے ہیں کچھ اور نہ ہم سے سنتے ہیں یہ آدمی ہیں کسی دوسرے جہان کے ہی ترے جہان کے جھگڑوں میں ہاتھ کیوں ڈالوں مجھے بہت ہیں بکھیڑے مرے مکان کے ہی سنا رہی ہے جسے جوڑ جوڑ کر دنیا تمام ٹکڑے ہیں وہ میری ...

    مزید پڑھیے

    کبھی میں چپ کبھی حرف بیاں میں رہتا ہوں

    کبھی میں چپ کبھی حرف بیاں میں رہتا ہوں میں اپنے شہر کی ہر اک زباں میں رہتا ہوں بدل لیا ہے ذرا خواب کے علاقے کو مکاں کو چھوڑ کے اب لا مکاں میں رہتا ہوں میں ایک حرف تسلی ہوں نرم دل کے لیے ہمیشہ سے نگہہ مہرباں میں رہتا ہوں مجھے زمین پہ ہر سمت در بدر کر کے بتا رہا ہے کہ میں آسماں میں ...

    مزید پڑھیے

    درون جاں کا شگوفہ جلا ہوا نکلا

    درون جاں کا شگوفہ جلا ہوا نکلا سو جو شرار بھی نکلا بجھا ہوا نکلا چرا کے لے گئی جانے ہوائے شب کیا کیا اٹھے تو خواب دریچہ کھلا ہوا نکلا اک عرصہ بعد ہوئی کھل کے گفتگو اس سے اک عرصہ بعد وہ کانٹا چبھا ہوا نکلا دھری ہی رہ گئی خواہش نہال ہونے کی نمو کا دور تھا اور دل دکھا ہوا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2