خاور اعجاز کی غزل

    حدود جاں میں حد نارسا سے آیا ہوں

    حدود جاں میں حد نارسا سے آیا ہوں میں اپنے آپ میں لا انتہا سے آیا ہوں چمک رہی ہے جبیں پر سفر کی دھول ابھی زمیں کی دھند میں روشن فضا سے آیا ہوں میں کس کی آنکھ میں تعبیر کی طرح جاگوں سنہرا خواب ہوں اور قرطبہ سے آیا ہوں مری ہتھیلی پہ روشن نجات کا لمحہ میں آج وادیٔ حمد و ثنا سے آیا ...

    مزید پڑھیے

    جو شخص راہ بناتا رہا درختوں میں

    جو شخص راہ بناتا رہا درختوں میں اسی کو چھوڑ گیا راستہ درختوں میں اچھل پڑا تھا جب اک بار جھیل کا پانی بدن چھپاتی پھری تھی ہوا درختوں میں نکل تو آئی کرن آرزو کے جنگل سے الجھ کے رہ گئی لیکن قبا درختوں میں زمانے بھر کی تمازت سے تھا سکوں لیکن عجیب خوف کا احساس تھا درختوں میں کہیں ...

    مزید پڑھیے

    نیا پیمان روشن کر گیا ہے

    نیا پیمان روشن کر گیا ہے وہ آتش دان روشن کر گیا ہے کوئی طاق نظر میں شمع رکھ کر دل ویران روشن کر گیا ہے افق پر ڈوبنے والا ستارا کئی امکان روشن کر گیا ہے مرے کمرے کا اک تاریک گوشہ کوئی مہمان روشن کر گیا ہے مرے دشمن کا ہے احسان مجھ پر مری پہچان روشن کر گیا ہے بہت مدھم سی تھی آفاق ...

    مزید پڑھیے

    اک قطرۂ معنی سے افکار کا دریا ہو

    اک قطرۂ معنی سے افکار کا دریا ہو اے ذرۂ آگاہی اب پھیل کے صحرا ہو رفتہ رہے وابستہ ہر حال دریچے سے فردا کے جھروکوں میں ماضی کا اجالا ہو اے بچھڑی ہوئی ندی کس دشت میں بہتی ہے پھر جانب دریا آ اور شامل دریا ہو آفاق بلندی سے آواز یہ آتی ہے اک عصر میں شامل ہو اک پل سے علاحدہ ہو لمحے کی ...

    مزید پڑھیے

    مقام نور ہو کر رہ گیا ہے

    مقام نور ہو کر رہ گیا ہے وہ ہم سے دور ہو کر رہ گیا ہے چراغ دل بجھا تو تن بدن میں دھواں محصور ہو کر رہ گیا ہے خودی میں بے خودی کو چھو لیا تھا نشہ کافور ہو کر رہ گیا ہے ہوا گھیرے ہوئے ہے طاق شب کو دیا معذور ہو کر رہ گیا ہے جو تارہ خاک سے ہونا تھا ظاہر وہی مستور ہو کر رہ گیا ہے یہ دل ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں اس نے سبھی احوال سے انجان رکھا

    ہمیں اس نے سبھی احوال سے انجان رکھا ہمارے اور اپنے بیچ پردہ تان رکھا کبھی حد نظر میں اور کبھی امکاں سے باہر ہمیں تو اس نے ساری زندگی حیران رکھا مری پرواز کی حد جانتا تھا اس لیے بھی مرے اوپر یہ نیلا آسماں نگران رکھا ذرا رکنا کہ میں اس بوجھ سے آزاد ہو لوں کہ طاق دل میں ہے دنیا کا ...

    مزید پڑھیے

    کب تک مہکے گی بے آس گلابوں میں

    کب تک مہکے گی بے آس گلابوں میں مر جائے گی خوشبو بند کتابوں میں کبھی درون ذات کے منظر تھے ان میں کنکر ہی کنکر ہیں اب تالابوں میں ہاتھ لگاتے ہی مٹی کا ڈھیر ہوئے کیسے کیسے رنگ بھرے تھے خوابوں میں گرتی جائے رشتوں کی مضبوط فصیل نخلستان بدلتا جائے سرابوں میں ذہنوں میں تشویش دلوں ...

    مزید پڑھیے

    وہ مرے حساب میں انتہا نہیں چاہتا

    وہ مرے حساب میں انتہا نہیں چاہتا مگر ایک میں ہوں کہ ابتدا نہیں چاہتا مرے صحن پر کھلا آسمان رہے کہ میں اسے دھوپ چھاؤں میں بانٹنا نہیں چاہتا کبھی کھل سکے کسی اعتبار کے دور میں مجھے چاہتا ہے وہ دل سے یا نہیں چاہتا کوئی اور بھی ہو چراغ بزم حیات کا سر طاق رکھا ہوا دیا نہیں چاہتا یہ ...

    مزید پڑھیے

    چراغ شوق جلا رات کے اثر سے نکل

    چراغ شوق جلا رات کے اثر سے نکل سفر نہ روک طلسمات‌ رہ گزر سے نکل کبھی تو دست حنائی سے لکھ وصال کی رت کبھی تو شیشۂ جاں ٹوٹنے کے ڈر سے نکل جواز ڈھونڈ نہ اپنی صدا بکھرنے کا حیات مہر بہ لب دست چارہ گر سے نکل ذرا سی وسعت ادراک میں نہ گم ہو جا اس امتحاں سے گزر حیرت خبر سے نکل ترے خیال ...

    مزید پڑھیے

    یہ مرحلہ ہے مرے آزمائے جانے کا

    یہ مرحلہ ہے مرے آزمائے جانے کا ملا ہے حکم مجھے کشتیاں جلانے کا بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں تمام اہل ستم فصیل شہر وفا میں نقب لگانے کا بڑے سکون سے سوئی ہے آج خلقت شہر منا کے جشن چراغوں کی لو بجھانے کا ہوائے شہر ہی جب ہو گئی خلاف مرے اسے بھی آ گیا فن انگلیاں اٹھانے کا مرے وجود میں زندہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2